اسلاف پر اعتماد کیجۓ
اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کیلئے حضرات انبیاء علیہم السلام کا جو مبارک سلسلہ جاری فرمایا جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر مکمل ہوا ۔۔۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف پانے والے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست شاگرد تھے تو حضرات تابعین کیلئے استاد کا درجہ رکھتے ہیں ۔۔۔ انسان نے جو کچھ اپنے بڑوں سے سیکھا ہوتا ہے وہ اپنے چھوٹوں میں منتقل کرتا ہے اور یوں تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔۔۔
اپنے بڑے بزرگوں پر اعتماد جس طرح دنیاوی امور میں خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔۔۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دین میں بھی اپنے اَسلاف و اکابر پر اعتماد کا درس دیا ہے جس کی خیر و برکات کا اندازہ ہماری محدود عقل نہیں کر سکتی۔۔۔ اپنے اَسلاف اور بڑوں کے بارہ میں اعتماد کی فضا ہو اورآدمی ان کو اپنے لیے محسن ہونے کا درجہ دے اور اپنے دل میں ان کیلئے اچھے جذبات رکھے۔۔۔
شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے ہزار گمراہیوں سے زیادہ گمراہ کن بات یہ ہے کہ آدمی اپنے اَسلاف سے بیزار و مستغنی ہو جائے۔۔۔ آج کے جس پُر فتن دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں بارش کے قطروں کی طرح فتنوں کی بہتات ہے۔۔۔ ان تمام فتنوں سے بچائو کاجو آسان اور فطری حل ہے (جس پر امت کا چودہ سو سال سے عمل چلا آ رہا ہے )وہ یہی ہے کہ آدمی اپنے اکابرو اسلاف پر اعتماد رکھے اور ہر چمکنے والی چیز کو سونا سمجھ کر اس پر ریجھ نہ جائے نہ اس کا معتقد ہو۔۔۔ جب تک کہ اپنے بڑوں بزرگوں کی طرف سے اس کے بارہ میں مکمل مشورہ اور تسلی نہ کر لی جائے۔۔۔ کسی کی ظاہری شان و شوکت اور کروفر دیکھ کر کتنے لوگ گرویدہ ہو جاتے ہیں۔۔۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک فتنہ اور آزمائش تھی ۔۔۔کسی کی کثرت معلومات کو دیکھ کر لوگ اسے علامہ یا شیخ الاسلام سمجھ لیتے ہیں۔۔۔
حالانکہ اگرصرف معلومات کی کثرت کو معیار قرار دیدیا جائے تو شیطان سے بڑا کون ہو سکتا ہے جو کہ فرشتوں کا بھی استاد تھا۔۔۔ کتنے لوگ کسی کی شہرت دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس کی شہرت اسکے حق ہونے کی دلیل ہے حالانکہ یہ معیار قطعاً درست نہیں۔۔۔
دورِ حاضر کے فتنوں سے بچائو کے لیے ایک ضروری چیز بحث مباحثہ سے پرہیز کرنا ہے کہ آدمی اپنے اَسلاف اور بزرگان دین سے وابستہ رہے اور انہی کے راستے کو لازم پکڑے اور جو کچھ بزرگوں کے ہاں دیکھا یا سنا اسی پر کار بند رہے اور یہ سمجھے کہ امت کی چودہ سو سالہ تاریخ سے جو عمل رائج چلا آ رہا ہے میری ہدایت و کامیابی کا راستہ بھی یہی ہے۔۔۔ ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے بحث تو نری نفسانیت ہے۔۔۔ بحث میں وقت کے ضیاع کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں جبکہ وقت سے زیادہ قیمتی چیز کوئی نہیں۔۔۔ اگر کوئی زیادہ الجھے تو اپنے بزرگوں یا علماء میں سے کسی کے ساتھ اس کا رابطہ کرا دیں اور خود ہرگز اس سے نہ الجھیں۔۔۔
روزانہ رات کو سوتے وقت یہ دعا پڑھ کر سوئیں کہ یا اللہ! اس پُرفتن دور میں ہمارے اور ہمارے اہل و عیال او رتمام متعلقین کے ایمان کی حفاظت فرمائیے۔۔۔ ہمیں صراط مستقیم دکھا بھی دیجئے اور ہمیں اس پر چلا بھی دیجئے اور ہمیں اپنے اَسلاف و اکابر کے طریقے پر ثابت قدم رکھئے اور ہمارے اَسلاف کو ہماری طرف سے اجر عظیم عطا فرمائیے جن کی قربانیوں کی وجہ سے دین کی اصل روح اور دینی مزاج ہم تک منتقل ہوا ہے۔۔۔
ان شاء اللہ اس طرح کے کلمات دل سے نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی نصرت سے تمام فتنوں سے بچائو اور ہدایت کا سامان کر دینگے۔۔۔اللہ تعالیٰ توفیق عمل عطا فرمائے آمین
