فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں

اب میں حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مذاق فتویٰ کے بارے میں آپ ہی سے سنی ہوئی چند متفرق باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ محض فقہی کتابوں کی جزئیات یاد کرلینے سے انسان فقیہ یا مفتی نہیں بنتا، میں نے ایسے بہت سے حضرات دیکھے ہیں جنہیں فقہی جزئیات ہی نہیں، ان کی عبارتیں بھی ازبر تھیں لیکن ان میں فتویٰ کی مناسبت نظر نہیں آئی۔۔۔
وجہ یہ ہے کہ درحقیقت ’’فقہ‘‘ کے معنی ’’سمجھ‘‘ کے ہیں اور فقیہ وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دین کی سمجھ عطا فرمادی ہو اور یہ سمجھ محض وسعت مطالعہ یا فقہی جزئیات یاد کرنے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے کسی ماہر فقیہ کی صحبت اور اس سے تربیت لینے کی ضرورت ہے۔۔۔
یہ بات احقر نے حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بارہا سنی اور ایک آدھ مرتبہ اس کی تشریح و تفصیل بھی سمجھنی چاہی کہ وہ کیا باتیں ہیں جو محض مطالعے یا فقہی جزئیات یاد کرنے سے حاصل نہیں ہوتیں۔۔۔
لیکن حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس سوال کا جو جواب دیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر وہ باتیں بیان میں آسکتیں تو پھر انہیں سیکھنے کے لیے کسی سے تربیت لینے کی ضرورت نہ ہوتی، اب ان کی نوعیت ہی کچھ ایسی ہے کہ انہیں منضبط شکل میں مدون نہیں کیا جاسکتا اور نہ متعین الفاظ میں ان کی تعبیر و تشریح ممکن ہے۔۔۔ گویا:۔
بسیار شیوہ ہا است بتاں راکہ نام نیست
ان باتوں کے حصول کا طریقہ ہی یہ ہے کہ کسی ماہر فقیہ کے ساتھ رہ کر اس کے انداز فکر و نظر کا مشاہدہ کیا جائے، اس طرح مدت کے تجربے اور مشاہدے سے وہ انداز فکر خود بخود زیرتربیت شخص کی طرف منتقل ہو جاتا۔۔۔ بشرطیکہ جانبین میں مناسبت ہو اور سیکھنے والا شخص باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ واقعی سیکھنا چاہتا ہو۔۔۔
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اکابر دیوبند کے مسلک کے مطابق تقلید شخصی کے نہ صرف قائل تھے بلکہ اس دور ہوا وہوس میں اسی کو سلامتی کا راستہ سمجھتے تھے اور جب کبھی آئمہ اربعہ کے درمیان دلائل کے محاکمے کا سوال آتا تو فرمایا کرتے تھے کہ یہ ہمارا منصب نہیں ہے کیونکہ محاکمہ کرنے والے کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ جانبین کے علمی مقام سے اگر بلند تر نہ ہو تو کم از کم ان کے مساوی تو ہو اور آج اس مساوات کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔۔۔
البتہ ساتھ ہی حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مقولہ سنایا کرتے تھے کہ ’’تقلید شخصی کوئی شرعی حکم نہیں ہے بلکہ ایک انتظامی فتویٰ ہے‘‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ چاروں آئمہ مجتہدین برحق ہیں اور ہر ایک کے پاس اپنے مؤقف کے لیے وزنی دلائل موجود ہیں ، لیکن اگر ہر شخص کو یہ کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ جب جس امام کے مسلک کو چاہے اختیار کرے تو ہر شخص اپنی آسانی کی خاطر آج ایک مسلک پر عمل کرلے گا۔۔۔ کل دوسرے مسلک پر اور اس طرح اتباع خدا وندی کے بجائے اتباع نفس کا دروازہ کھل جائے گا۔۔۔
لیکن چونکہ چاروں مذاہب بلاشبہ برحق ہیں اور ہر ایک کے پاس دلائل موجود ہیں، اس لیے اگر مسلمانوں کی کوئی شدید اجتماعی ضرورت داعی ہو تو اس موقع پر کسی دوسرے مجتہد کے مسلک پر فتویٰ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت گنگوہی قدس سرہ نے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو یہ وصیت کی تھی اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ہم سے فرمایا کہ آج کل معاملات پیچیدہ ہوگئے ہیں اور اس کی وجہ سے دین دار مسلمان تنگی کا شکار ہیں۔۔۔ اس لیے خاص طور سے بیع و شراء اور شرکت وغیرہ کے معاملات میں جہاں بلویٰ عام ہو وہاں آئمہ اربعہ میں سے جس امام کے مذاہب میں عام لوگوں کے لیے گنجائش کا پہلو ہو، اس کو فتویٰ کے لیے اختیار کرلیا جائے۔۔۔
لیکن حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ کسی دوسرے امام کا قول اختیار کرنے کے لیے چند باتوں کا اطمینان کرلینا ضروری ہے۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ کہ واقعتہً مسلمانوں کی اجتماعی ضرورت متحقق ہے یا نہیں؟
ایسا نہ ہو کہ محض تن آسانی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرلیا جائے اور حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس اطمینان کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی ایک مفتی خود رائی کے ساتھ یہ فیصلہ نہ کرے بلکہ دوسرے اہل فتویٰ حضرات سے مشورہ کرے، اگر وہ بھی متفق ہوں تو اتفاق رائے کے ساتھ ایسا فتویٰ دیا جائے۔۔۔
دوسری بات یہ ہے کہ جس امام کا قول اختیار کیا جارہا ہے اس کی پوری تفصیلات براہِ راست اس مذہب کے اہل فتویٰ علماء سے معلوم کی جائیں۔۔۔ محض کتابوں میں دیکھنے پر اکتفا نہ کیا جائے کیونکہ بسا اوقات اس قول کی بعض ضروری تفصیلات عام کتابوں میں مذکور نہیں ہوتیں اور ان کے نظرانداز کردینے سے تلفیق کا اندیشہ رہتا ہے۔۔۔
تیسری بات یہ ہے کہ آئمہ اربعہ سے خروج نہ کیا جائے کیونکہ ان حضرات کے علاوہ کسی بھی مجتہد کا مذہب مدون شکل میں ہم تک نہیں پہنچا اور نہ ان کے متبعین اتنے ہوئے ہیں کہ ان کا کوئی قول استفاضہ یا تواتر کی حد تک پہنچ جائے۔۔۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’عقدالجید‘‘ میں آئمہ اربعہ سے باہر جانے کے مفاسد تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔۔۔
چنانچہ بعض مصیبت زدہ خواتین کے لیے حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ نے مالکی مذہب پر فتویٰ دینے کا ارادہ کیا تو ان تمام باتوں کو پوری احتیاط کے ساتھ مدنظر رکھا اور براہِ راست مالکی علماء سے خط و کتابت کے ذریعے ان کے مذہب کی تفصیلات معلوم کیں اور تمام علمائے ہند سے استصواب کے بعد فتویٰ شائع فرمایا۔۔۔
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ انتہائی وسیع المطالعہ ہونے کے باوجود اس قدر تقویٰ شعار اور محتاط بزرگ ہیں کہ عام طور سے اپنی ذمہ داری پر کوئی مسئلہ بیان نہیں کرتے بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا ہے اپنے سے پہلے کی کتابوں میں سے کسی نہ کسی کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں۔۔۔
اگر ان اقوال میں بظاہر تعارض ہو تو ان کو رفع کرنے کے لیے بھی حتی الامکان کسی دوسرے فقیہ کے قول کا سہارا لیتے ہیں اور جب تک بالکل مجبوری نہ ہو جائے خود اپنی رائے ظاہر نہیں فرماتے اور جہاں ظاہر فرماتے ہیں وہاں بھی بالعموم آخر میں ’’تامل یا فتدبر‘‘ کہہ کر خود بری ہو جاتے ہیں اور ذمہ داری پڑھنے والے پر ڈال دیتے ہیں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات اُلجھے ہوئے مسائل میں ہم جیسے لوگوں کو ان کی کتاب سے مکمل شفاء نہیں ہوتی۔۔۔
لیکن فرمایا کرتے تھے کہ یہ طریقہ ردالمحتار میں تو رہا ہے مگر چونکہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے البحرالرائق کا حاشیہ منحۃ الخالق اور تنقیح الحامدیہ بعد میں لکھا ہے اس لیے ان کتابوں میں مسائل زیادہ منقح انداز میں آئے ہیں جنہیں پڑھ کر فیصلہ کن بات معلوم ہو جاتی ہے۔۔۔ فقہاء کرام رحمہم اللہ نے فقہ کے جو متون مرتب فرمائے ہیں ان کی عبارتیں انتہائی جامع و مانع اور حشو و زوائد سے پاک ہوتی ہیں۔۔۔
چنانچہ ان متون میں کسی مسئلے کو بیان کرنے کے لیے اتنے ہی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جتنے ناگزیر ہوں، ان کا کوئی لفظ زائد نہیں ہوتا بلکہ اس سے مسئلے کی کسی نہ کسی شرط کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ فقہاء حنفیہ رحمۃ اللہ علیہم قرآن و سنت کی نصوص میں تو مفہوم مخالف کو حجت نہیں مانتے کیونکہ قرآن و سنت کا اسلوب احکام کے بیان کے ساتھ وعظ و تذکیر کے پہلو کو بھی ساتھ لیے ہوئے ہے اور اس میں بعض الفاظ اسی نقطہ نظر سے بڑھائے جاتے ہیں لیکن فقہاء کی عبارتیں صرف قانونی انداز کی عبارتیں ہیں۔۔۔ اس لیے ان عبارتوں میں مفہوم مخالف کا معتبر ہونا خود فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے تسلیم کیا ہے۔۔۔
خلاصہ یہ کہ فقہاء کے کلام کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے ایک ایک لفظ کے قانونی مقتضیات پر غور کرکے کوئی نتیجہ نکالا جائے لیکن ان الفاظ کے قانونی مقتضیات کو متعین کرنے میں بعض اوقات کئی احتمال ہوتے ہیں۔۔۔ ان میں سے کسی ایک احتمال کو اختیار کرنے میں ایک فقیہ اور مفتی کو اپنی بصیرت سے کام لینا پڑتا ہے۔۔۔
بعض حضرات کسی لفظ کے قانونی مقتضیات کے متعین کرنے میں اس کے لغوی مفہوم اور ٹھیٹھ منطقی نتائج کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ اس سے مسئلے کی علت اور اس کا صحیح سیاق پس پشت چلا جاتا ہے اور بعض حضرات اس لفظ کے ٹھیٹھ منطقی نتائج پر زور دینے کے بجائے اس سیاق کو مدنظر رکھتے ہیں جن میں وہ بولا گیا ہے، خواہ اس سے لفظ کے منطقی نتائج پورے نہ ہوتے ہوں۔۔۔ ان دونوں میں سے حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مذاق دوسرے طرزِ عمل کے مطابق تھا۔۔۔
ایک مثال سے یہ بات واضح ہوسکے گی۔۔۔ فقہاء حنفیہ کے یہاں یہ مسئلہ مشہور ہے کہ اگر نابالغ کا نکاح اس کے باپ یا دادا نے کیا ہو تو اسے خیار بلوغ حاصل نہیں ہوتا۔۔۔ البتہ اس کے ساتھ ہی در مختار وغیرہ میں ایک استثناء مذکور ہے کہ ’’الا اذا کان الاب معروفا بسوء اختیارہ مجانۃ و فسقا‘‘ (یعنی جب باپ فسق و فجور اور لالچ کی وجہ سے اولاد کی بدخواہی میں معروف ہو تو یہ حکم نہیں ہوگا بلکہ اس صورت میں اولاد کو خیار بلوغ حاصل ہوگا)۔۔۔
یہاں فقہاء رحمہم اللہ نے صرف اتنا نہیں فرمایا کہ باپ اولاد کا بدخواہ ہو بلکہ یہ ضروری قرار دیا ہے کہ وہ اس بدخواہی میں معروف ہو۔۔۔ لہٰذا لفظ ’’معروف‘‘ کے قانونی مقتضیات پر عمل تو ضروری ہے لیکن جو حضرات ان قانونی مقتضیات کو متعین کرنے میں لفظ کے ٹھیٹھ منطقی لوازم پر زور دیتے ہیں انہوں نے اس لفظ سے یہ نتیجہ نکالا کہ کسی شخص کو ’’معروف بسوء الاختیار‘‘ (اولاد کی بدخواہی میں معروف) اسی وقت کہا جائے گا جب اس نے کم از کم ایک مرتبہ اپنی کسی اولاد کا نکاح بدخواہی سے صرف لالچ کی بناء پر کردیا ہو اور جس شخص نے اب تک اپنی کسی لڑکی کا نکاح اس طرح نہ کیا ہو وہ ’’معروف بسوء الاختیار‘‘ نہیں کہلا سکتا۔۔۔ لہٰذا اگر کوئی باپ پہلی بار اپنی لڑکی کا نکاح لالچ سے کررہا ہو تو وہ ’’سیئی الاختیار‘‘ تو ہے لیکن ’’معروف بسوء الاختیار‘‘ نہیں ہے اس لیے اس کی لڑکی کو خیار بلوغ حاصل نہیں ہوگا۔۔۔
ہاں اگر وہ اس کے بعد دوسری لڑکی کا نکاح اسی طرح کرے تو چونکہ اب وہ معروف بسوء الاختیار بن گیا ہے اس لیے دوسری لڑکی کو خیار بلوغ مل جائے گا۔۔۔
لیکن حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جواہر الفقہ کے ایک رسالے میں اس نقطہ نظر سے اختلاف فرمایا ہے ، ان کا مؤقف یہ ہے کہ ’’معروف بسوء الاختیار‘‘ کی یہ منطقی تعبیر کہ جب تک کسی لڑکی کی کم از کم ایک بہن باپ کی بدخواہی کی بھینٹ نہ چڑھ چکی ہو، اس وقت تک اسے خیار بلوغ حاصل نہ ہو، اس سیاق کے بالکل خلاف ہے جس میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔۔۔ سیاق یہ ہے کہ اولاد کا خیار بلوغ باپ کی مظنونہ شفقت کے مدنظر ساقط کیا گیا تھا۔۔۔ لیکن جب سوء اختیار ہے اس شفقت کا فقدان ثابت ہوگیا تو خیار بلوغ لوٹ آئے گا۔۔۔
اس موقع پر فقہاء نے ’’معروف بسوء الاختیار‘‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ بسوء اختیار کا فیصلہ محض کسی کی شخصی رائے سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ باپ کی بدخواہی اتنی واضح ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں میں اس حیثیت سے معروف ہو۔۔۔
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ شریعت اسلامی چونکہ صرف شہریوں اور پڑھے لکھے افراد کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر ان پڑھ دیہاتی اور دور دراز علاقے کا رہنے والا بھی اس کا اتناہی مخاطب ہے جتنا ایک تعلیم یافتہ انسان، اس لیے شریعت کے احکام میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ اس کے احکام پر عمل کرنے کے لیے لمبے چوڑے حساب و کتاب، ریاضی کے باریک فارمولوں اور فلسفیانہ تدقیقات کی ضرورت پیش نہ آئے۔۔۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات اپنے مضامین میں بھی تحریر فرمائی ہے۔۔۔ چنانچہ رسالہ ’’سمت قبلہ‘‘ میں لکھتے ہیں:۔
۔’’شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے تمام احکام کی بنیاد یسر و سہولت اور سادگی و بے تکلفی پر ہے، فلسفیانہ تدقیقات پر نہیں کیونکہ دائرہ حکومت اس شریعت کا تمام عالم کے بحر و بر، اسود و احمر، شہری و دیہاتی آبادیوں اور ان کے مکان پر حاوی ہے۔۔۔ اسلامی فرائض نماز و روزہ وغیرہ جس طرح شہریوں اور تعلیم یافتہ طبقات پر عائد ہیں۔۔۔
اسی طرح دیہاتیوں اور پہاڑ کے درّوں اور جزائر کے رہنے والے ناخواندہ و ناواقف لوگوں پر بھی عائد ہیں اور جو احکام اس درجہ عام ہوں، ان میں مقتضا عقل و حکمت و رحمت کا یہی ہے کہ ان کو تدقیقات اور قواعد ریاضیہ یا آلات رصدیہ پر موقوف نہ رکھا جائے تاکہ ہر خاص و عام، خواندہ و ناخواندہ بآسانی اپنے فرائض انجام دے سکے۔۔۔ روزہ رمضان کا مدار چاند دیکھنے پر رکھا گیا ہے، حسابات ریاضیہ پر نہیں، مہینے قمری رکھے گئے ہیں جن کا مدار رویت ہلال پر ہے۔۔۔ شمسی مہینے جن کا مدار خاص حسابات ریاضیہ پر ہے، عام احکام شرعیہ میں ان کو نہیں لیا گیا، اسی طرح احکام اسلامیہ کے تتبع سے بکثرت اس کے نظائر معلوم کیے جاسکتے ہیں۔۔۔ (جواہر الفقہ، ج:۱،ص:۲۵۸)

Most Viewed Posts

Latest Posts

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عقیدہ و عمل کو اپنے عقیدہ و عمل کے ساتھ ضم کر کے انہیں معیار حق فرمایا اور اعلان فرمایا کہ ’’سنن نبوت اور سنن...

read more

اَسلاف کے مسلک پر استقامت

اَسلاف کے مسلک پر استقامت حضرت مولانا سرفراز خان صفدررحمہ اللہ نے حضرت سید نفیس الحسینی رحمہ اللہ کے انتقال پُرملال کے موقع پر جو کلمات ارشاد فرمائے وہ ہم سب کیلئے بالعموم اور سلسلہ نفیسیہ کے احباب کیلئے بالخصوص مینارۂ نور ہیں۔حضرت اقدس سید انور حسین شاہ نفیس رقم کی...

read more

فتویٰ نویسی میںم فتی اعظم رحمہ اللہ اور اسلام پر اعتماد

فتویٰ نویسی میں مفتی اعظم رحمہ اللہ اور اسلام پر اعتماد حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اپنی کتاب ’’میرے والد میرے شیخ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:۔جن فتاویٰ میں کوئی خاص تحقیق پیش نظر ہوتی ان میں تو متعلقہ موضوع سے متعلق جتنی کتابیں میسر ہوتیں، والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان...

read more