اہل علم کے لیے راہِ عمل
۔1…حضرات علماء سے میری درد مندانہ گزارش یہ ہے کہ سب سے پہلے تو اپنے دلوں میں اس کا عہد کریں کہ اپنی علمی و عملی صلاحیت اور زبان و قلم کے زور کو زیادہ سے زیادہ اس محاذ پر لگائیں گے جس کی حفاظت کے لیے قرآن و حدیث آپ کو بلا رہے ہیں اور اس کام کے لیے اپنے موجودہ مشاغل میں سے زیادہ سے زیادہ وقت نکالیں گے۔۔۔
۔2 … دوسرے یہ کہ آپس کے نظریاتی اور اجتہادی اختلاف کو صرف اپنے اپنے حلقۂ درس اور تصنیف و تالیف اور فتویٰ تک محدود رکھیں گے۔۔۔ عوامی جلسوں، اخباروں، اشتہاروں ، باہمی مناظروں اور جھگڑوں کے ذریعہ ان کو نہ اُچھالیں گے۔۔۔ ان حلقوں میں بھی پیغمبرانہ اُصول و دعوت و اصلاح کے تابع دلخراش عنوان اور طعن و تشنیع ، استہزاء تمسخر اور مخالفانہ فقرہ بازی سے گریز کریں گے۔۔۔
۔3… تیسرے یہ کہ معاشرہ میں پھیلی ہوئی بیماریوں کی اصلاح کے لیے دلنشین عنوان اور مشفقانہ لب و لہجہ کے ساتھ کام شروع کردیں گے۔۔۔
۔4… چوتھے یہ کہ الحاد و بے دینی اور تحریف قرآن و سنت کے مقابلہ کے لیے پیغمبرانہ اُصول دعوت کے تحت حکیمانہ تدبیروں، مشفقانہ و ناصحانہ بیانوں اور دلنشین دلائل کے ذریعہ مجادلہ باللتی ھی احسن کے ساتھ اپنے زور زبان اور زور قلم کو وقف کردیں گے۔۔۔ (وحدت اُمت، ص:۴۴، ۴۵)
