اتباع سلف صالحین
صحابہ و تابعین اور اسلاف متقدمین کی تفسیروں کے بعد ان کے خلاف کوئی قول ایجاد کرنا اور آیت کی مراد اُن سب کے خلاف قرار دینا صاف یہ معنی رکھتا ہے کہ العیاذ باللہ تیرہ سو برس تک اُمت نے قرآن کا مطلب غلط سمجھا۔۔۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور پھر تابعین اور تبع تابعین اور پھر تمام آئمہ سلف صالحین رحمہم اللہ میں سے کسی کو حق کی طرف ہدایت نہ ہوئی۔۔۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کا کوئی مسلمان جو قرآن مجید کو خدا کی کتاب جانتا ہے قائل نہیں ہوسکتا۔۔۔ (ختم نبوت، ص:۴۱)
جو شخص کسی آیت کی تفسیر معلوم کرنا چاہے اس کے لیے نہایت سہل اور سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ وہ سلف صالحین صحابہ و تابعین کی تفاسیر کو اپنا قدوہ بناکر ان کی اختیار کردہ تفسیر کو قرآن کی مراد سمجھے اور جو کوئی معنی جمہور صحابہ و تابعین اور اسلاف اُمت کے خلاف سمجھ آئیں ان کو اپنی غلط فہمی اور قصور علم کا نتیجہ سمجھے۔۔۔ اگرچہ اس کے گمان میں وہ معنی قرآن کا مدلول معلوم ہوتے ہوں۔۔۔ (ختم نبوت ص:۴۳)
