سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار
غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔
۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیں
جو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ ظاہری نہریں ہیں جو ان ساتوں شاخوں (سبع سنابل) کو سیراب کرتی ہیں۔
دیکھا جائے تو یہ مسلک بعینہ حدیث جبریل کا خلاصہ ہے جو صحیحین کی مشہور حدیث ہے جسے فقہاء ملت نے اُم الاحادیث قرار دیا ہے جس میں جبریل علیہ السلام کے چار سوالات کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان، اسلام، احسان اور دفاعِ فتن یا اعلاء کلمۃ اللہ کے مضمرات کی تفاصیل ارشاد فرمائیں اور ان ہی کو مجموعۂ تعلیم دین فرمایا کہ:۔
۔’’اَتَاکُمْ یُعلّمکُمْ دِیْنکُمْ‘‘ (مشکوٰۃ)
ترجمہ: ’’ جبریل علیہ السلام تمہارے پاس آئے (اور ان چارگانہ سوالات کے ذریعہ نبوت سے جوابات سنوا کر) تمہیں دین کی تعلیم دے گئے۔‘‘۔
ظاہر ہے کہ حدیث میں ذکر فرمودہ چار عنوانات اور ان کا علم ہی تعلیم دین کا بنیادی نصاب ہے جس کی بنیادی حجتیں چار ہی ہوسکتی ہیں:۔
کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع اُمت اور قیاس مجتہد کہ انہی کا علم اصلاً تعلیم دین کے تحت آسکتا ہے اور حجت بن سکتا ہے جس میں سے پہلی دو حجتیں تشریعی ہیں جن سے شریعت بنتی ہے اور آخر کی دو حجتیں تفریعی ہیں جن سے شریعت کھلتی ہے۔ پہلی دو حجتیں منصوصات کا خزانہ ہیں جو روایتی ہیں جن کے لیے سند و روایت ناگزیر ہے اور دوسری دو حجتیں درایتی ہیں جن کے لیے تربیت یافتہ عقل و فہم ، تقویٰ شعار ذہن و ذوق اور ساتھ ہی ان کا انتساب صاحب درایت مجتہد کی طرف سند کے ساتھ ضروری ہے۔ بقیہ وہ علوم جو ان کے لیے بطور آلات و وسائل سیکھے جائیں وہ اصلاً علم دین نہ ہوں گے بلکہ اضافۃً اور نسبتی طور پر ان کا نام اس علم کے ساتھ بطور ذرائع و وسائل کے لیا جاسکے گا۔
اس لیے یہ مسلک اعتدال نقلی بھی ہے اور عقلی بھی، روایتی بھی ہے اور درایتی بھی مگر اس طرح کہ نہ عقل سے خارج ہے نہ عقل پر مبنی بلکہ عقل و نقل کی متوازن آمیزش سے بایں انداز برپا شدہ ہے کہ نقل اور وحی اس میں اصل ہے اور عقل ہمہ وقتی خادم اور کار پرداز ہے۔
اس لیے علمائے دیوبند کا مسلک نہ تو عقل پرست معتزلہ کا مسلک ہے جس میں عقل کو نقل پر حاکم اور متصرف مان کر عقل کو اصل اور وحی یا اس کے مفہوم کو عقل کے تابع کردیا گیا ہے جس سے دین فلسفۂ محض بن کر رہ جاتا ہے اور عوام کے لیے زندقہ و الحاد کی لائن ہموار ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی سادہ مزاج عقیدت مندوں کا کوئی رابطہ دین اور دینی شخصیات سے قائم نہیں رہتا۔
نہ یہ مسلک ظاہریہ کا مسلک ہے جس میں الفاظِ وحی پر جمود کرکے عقل و درایت کو معطل کردیا گیا ہے اور دین کے باطنی علل و اسرار اور اندرونی حکم و مصالح کو خیرباد کہہ کر اجتہاد و استنباط کی ساری ہی راہیں مسدود کردی گئی ہیں جس سے دین ایک خالی ازحقیقت، بے معنویت غیرمعقول اور جامع شے بن کر رہ جاتا ہے اور دانش پسند اور حکمت دوست افراد کا اس سے کوئی علاقہ باقی نہیں رہتا۔
پس ان میں سے ایک مسلک میں تو عقل ہی عقل رہ جاتی ہے اور ایک مسلک میں نقل کے لفظ ہی لفظ یا صورتِ نقل رہ جاتی ہے، حقیقت باقی نہیں رہتی۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں جہتیں افراط و تفریط اور ’’وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا‘‘ کی ہیں جن سے یہ جامع اور معتدل مسلک بری ہے۔ مسلک جامع وہی ہوسکتا ہے کہ جس میں عقل و نقل پورے توازن کے ساتھ اس طرح جمع رہیں کہ تمام اُصول و فروع میں نقل کے ساتھ عقل بھی کارفرما رہے مگر نقل کے ایک مطیع و فرماں بردار خادم کی طرح کہ اس کی ہر ایک کلی و جزئی کے لیے یہ عقل و خرد عقلی براہین، معقول دلائل اور حسی شواہد و نظائر فراہم کرتی رہے جس سے یہ مسلک اُمت کے ہر طبقہ کے لیے قابل قبول اور ہمہ جہتی دستورِ حیات ثابت ہوتا رہے اور یہ طبقۂ حقہ ’’وَجَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَّسَطاً‘‘ کا صحیح مصداق دکھائی دے۔
یہی مسلک اہلسنّت والجماعت کہلاتا ہے اور یہی وہ مسلک ہے جس کے علمبردار علمائے دیوبند ہیں۔ اسی لیے اس جامع مسلک پر چلنے اور اس کے عناصر ترکیبی کو جمع رکھنے سے (جن کی تفصیلات سابقہ اوراق میں عرض کی جاچکی ہیں) ۔
وہ بیک وقت مفسر بھی ہیں اور محدث بھی، فقیہ بھی ہیں اور متکلم بھی، صوفی بھی ہیں اور مجاہد بھی، مقلد بھی ہیں اور مفکر بھی اور پھر ان تمام علوم اور عناصر دین کے امتزاج سے ان کا جماعتی مزاج معتدل بھی ہے اور متوسط بھی۔
جس میں نہ غلو ہے نہ مبالغہ اور اس توسط اور وسعت نظری کی بدولت نہ ان کا مشغلہ تکفیر بازی ہے نہ دشنام طرازی، نہ کسی کے حق میں سب وشتم اور تبرّا ہے نہ بدگوئی، نہ عناد و حسد اور طیش ہے نہ غلبۂ جاہ و مال سے افراطِ عیش، بلکہ صرف بیانِ مسئلہ اور حقائق بیانی یا احقاقِ حق اور ابطالِ باطل ہے اور بالفاظِ مختصر اصلاحِ اُمت اور اتحاد بین المسلمین ہے جس میں نہ متخالف شخصیات کی تحقیر اور بدگوئی کا دخل ہے نہ ان پر مغرورانہ طعن و استہزاء کا، نہ ان کے بیانات و خطابت کا موضوع مخالفِ مسلک طبقات سے خواہ مخواہ اُلجھنا اور عوام کو ان سے نفرتیں دلاتے رہنا اور ان کے خلاف ہمہ وقت عوامی جذبات کو مشتعل کرتے رہنا ہے جب کہ ان کی زبانیں بیانِ مسائل ہی سے فارغ نہیں تو ان خرافات کیلئے وہ فرصت کہاں سے پاتے۔
تکفیر بازی تو بجائے خود ہے ان کے یہاں سرے سے ان اشخاص کا ذکر و تذکرہ تک بھی زبانوں پر نہیں ہوتا جو ہمہ وقت ان کی بدگوئی میں لگے رہتے ہیں۔ پس انہی اوصاف و احوال کے مجموعہ کا نام ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ ہے اور اسی علمی و عملی اور عقلی و اخلاقی ہمہ گیری سے اس کا دائرہ اثر دُنیا کے تمام ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔
علمائے دیوبند کے اس دینی رُخ اور مسلکی مزاج کی نسبتوں سے اگر انہیں پہچنوایا جائے تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ دیناً مسلم ہیں، فرقۃً اہلسنّت والجماعت ہیں، مذہباً حنفی ہیں، کلاماً ماتریدی و اشعری ہیں، مشرباً صوفی ہیں سلوکاً چشتی بلکہ جامع سلاسل ہیں، فکراً ولی اللہی ہیں، اصولاً قاسمی ہیں، فروعاً رشیدی ہیں، بیاناً یعقوبی ہیں اور نسبتاً دیوبندی ہیں۔ ’’والحمدللّٰہ عَلٰی ھٰذہِ الجامعیّۃ‘‘۔
اس طرح دین کے مختلف شعبوں کی ظاہری اور باطنی نسبتیں مختلف ارباب نسبت اہل اللہ کی توجہات و تصرفات سے انہیں حاصل ہوئیں جنہوں نے مل کر اور یکجا ہوکر ایک مجموعی اور معتدل مزاج پیدا کرلیا جسے دارالعلوم دیوبند نے سنبھال رکھا ہے۔
مسلک علمائے دیوبند کے اسی جامع اور معتدل مزاج کو دیکھ کر شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال مرحوم نے ’’دیوبندیت‘‘ کے بارے میں ایک جامع اور بلیغ جملہ استعمال کیا تھا جب ان سے کسی نے پوچھا کہ یہ دیوبندی کیا کوئی مذہب خاص ہے یا کوئی فرقہ ہے؟
کہا: نہیں!’’ہر معقول پسند دیندار کا نام دیوبندی ہے‘‘۔
بہرحال اسی جامعیت اُصول و شخصیت کے امتزاج سے پیدا شدہ مسلک کا نام دیوبندیت اور قاسمیت ہے، محض درسِ نظامی کی کتابیں پڑھنے پڑھانے کا ہی نام دیوبندیت نہیں ہے۔
علمائے دیوبند کے دینی رُخ اور مسلکی مزاج کے بارے میں یہ چند اُصولی باتیں جو بزرگانِ دین دیوبند کی تعلیم و تلقین اور فیضانِ صحبت و معیت سے ذہن میں جمی ہوئی تھیں وہ طالب علمانہ انداز سے قلمبند کرکے پیش کردی گئیں۔
اس کا منشاء نہ تعصب ہے نہ خودستائی، اگر کہیں مناقب اور ستائش کے کلمات آئے بھی ہیں تو وہ ان ہی اکابر کی نسبت آئے ہیں جو ہمارے علم و یقین کے مطابق ان کلمات کے مستحق ہیں، نہ اس وجہ سے کہ میں اس جماعت کے ایک ادنیٰ خادم ہونے کی وجہ سے ’’مادحِ خورشید مداحِ خود است‘‘ کا مصداق بننا چاہتا ہوں کہ یہ کھلا تعصب ہوتا اور میرا ذہن الحمدللہ اس سے قطعاً خالی ہے۔
اس لیے ناظرینِ اوراق سے بھی یہ توقع بے جا نہیں ہے کہ وہ بھی اس قسم کے جملوں کو خود ستائی یا جماعتی مفاخرت یا گروہی تعصب پر محمول نہیں فرمائیں گے۔
یہ نہیں کہا جاسکتا کہ علمائے دیوبند کے مسلکی ذوق اور مزاج کا مکمل نقشہ ان اوراق میں آگیا ہو، خدا جانے کتنی فروگذاشتیں اور کوتاہیاں اس میں رہ گئی ہوں گی جنہیں حضرات علماء ہی سمجھ سکتے ہیں اور وہی ان نقائص کی اصلاح بھی فرما سکتے ہیں۔
یہ ناکارہ تو صرف اتنا ہی عرض کرسکتا ہے کہ جن لوگوں نے ان بزرگوں کو نہیں دیکھا یا جن کو معاندین نے ان کے ذوق و مزاج کی اُلٹی اور مسخ کردہ تصویر دکھلائی ہو، اُن کے لیے یہ سطریں ان اکابر کے ذوق و مزاج کے سمجھنے میں تمہید و تقریب کا کام ضرور دے سکتی ہیں اور ان کے مطالعہ سے ان کے مسلک کی تصویر اور اس کی روح ذہنوں کے قریب ضرور آسکے گی۔
البتہ جو لوگ بالقصد انہیں غلط سمجھنے اور سمجھانے ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں وہ اس تحریر سے اصلاح پذیری کے بجائے اس میں ایسے نقطے تلاش کرنے میں لگ جائیں گے جن سے اگر تکفیر کی ہنڈیا نہ بھی پکائی جاسکے تو کم از کم تحقیر کی دیگ ضرور دَم ہو جائے گی اور کسی نہ کسی الزام تراشی اور اتہام سازی کا بازار بھی کسی نہ کسی حد تک گرم کیا جاسکے گا، سو ایسے لوگوں سے ہمیں سروکار نہیں۔
۔’’وَلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذَالِکَ خَلَقَھُمْ‘‘ (ھود)
ترجمہ: ’’اور وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے مگر جس پر آپ کے رب کی رحمت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اسی واسطے پیدا کیا ہے۔‘‘ ۔
ایسے افراد کے بارے میں اس کے سوا کیا کہا جائے کہ:۔
’’فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ o‘‘ (الحج)
ترجمہ: ’’بات یہ ہے کہ (نہ سمجھنے والوں کی کچھ) آنکھیں اندھی نہیں ہو جایا کرتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘ (اعاذنا اللہ منہ)
بہرحال اس ناچیز اور ناکارۂ خلائق نے اس مسلک و ذوق کو نکھار کر پیش کرنے، اس کے عناصر ترکیبی کا تجزیہ کرکے ان کی تنقیح کرنے اور کتاب و سنت سے ان کے مآخذ بیان کرنے میں تابحدِ امکان کوئی ارادی کوتاہی نہیں کی اور جو کوتاہیاں میری کم استعدادی اور قلت علم سے ہوگئی ہوں اُنہیں حق تعالیٰ معاف فرمائے۔
’’اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘
میں نے تو درگزر نہ کی جو مجھ سے ہوسکا، ناظرین اوراق ان سطور کو پندرہویں صدی کے آغاز پر ’’اجلاس صد سالہ دارالعلوم دیوبند‘‘ کا ایک تحفہ سمجھ کر قبول فرمائیں تو اس ناچیز کے لیے سعادت و شرف کا باعث ہوگا۔
’’الحمدللّٰہ الذی بنعمتہٖ تتم الصَّالحات ولہُ الحمد اوّلاً و اخرًا‘‘
محمد طیب رئیس جامعہ دارالعلوم دیوبند (یکم محرم الحرام ۱۴۰۰ھ)
