قرآن کریم کا مطالبہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے:۔
ترجمہ:۔
اور جو اِن (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں کہ :’’اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمایئے ، اور ہمارے اُن بھائیوں کی بھی جوہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھئے۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔‘‘(سورۃ الحشر:۱۰)
مفکرِاسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔
اس آیت میں مسلمانوں کی آئندہ نسلوں سے اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ نسلوں کے بارے میں ان کا رویہ شرح صدر اور اعتراف حق کا ہونا چاہئے‘ صدق و اخلاص ‘ اطاعت رب‘ خوف انابت‘ دین کی خدمت اوراسلامی سرحدوں اور قلعوں کی پاسبانی و حفاظت کے میدان میں جو سبقت اور فضیلت ان کو حاصل ہے اس کو دل سے تسلیم کرنا چاہئے ان کی طرف سے نئی نسل کے دلوں میں کوئی کینہ اور نفرت نہ ہو‘ ان کی خدمت کے اعتراف میں اس کوتنگی اور تکلیف محسوس نہ ہو‘ اس کی زبان ان کے لئے دعا گو اور ثنا خواں رہے‘ ان کے عذر اور مجبوریاں اس کے لئے قابل قبول ہوں۔
اس آیت کا ہم سے مطالبہ یہ ہے کہ ہم سلف صالحین اور ایمان و احسان کے شعبہ کے امام و پیش رو بزرگوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے‘ ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے اور ان پر کسی قسم کا حکم لگانے میں احتیاط سے کام لیں‘ اور اس میں کسی عجلت اور جذبات کا مظاہرہ نہ کریں اور جب تک پوری طرح کسی مسئلہ کا اطمینان نہ ہو جائے اس پر قطعی حکم لگانے سے باز رہیں۔
