اَسلاف پر اعتماد کی ضرورت

اَسلاف پر اعتماد کی ضرورت

مناظر اسلام حضرت مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی زید مجدہم فرماتے ہیں:۔
اپنے اندر اعتماد علی السلف پیدا کرو، اچھے عالم کے لیے صفاتِ حسنہ ضروری ہیں۔ ’’اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیھم‘‘۔
قابل احترام علمائے کرام!۔
ہر نماز میں یہ دُعا اللہ نے بتلائی کہ صراطِ مستقیم حاصل کرنے کی دُعا کرو اور وہ راستہ بھی بتا دیا۔ پانچویں پارہ میں یہ فرمایا: مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ چار طبقے مُنْعَمْ عَلَیْھِمْ ہیں، ان کی اتباع کا حکم ہے۔
حدیث پاک میں ہے ’’برکت‘‘ تمہارے اکابر کے ساتھ ہے۔ (کنزالعمال)
’’اکابر‘‘ سے غلطی کو نظرانداز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ سلف کا جس بات پر اجماع ہو جائے تو وہ عمل کے لیے حجت ہے اور اگر ان میں اختلاف ہو جائے تو ’’سوادِ اعظم‘‘ کو لازم پکڑنے کا حکم ہے۔ ’’شاذ‘‘ اقوال حجت نہیں۔
اکابر کے خلاف اگر کسی صاحب علم و تقویٰ کی کوئی چیز ملے تو اوّل اس کی نسبت کی تحقیق کرو اگر صحیح سند سے وہ قول اس بزرگ کا ثابت نہ ہو تو اس نسبت کی تردید کرو اور اگر نسبت صحیح ہو تو اس میں تطبیق کی کوشش کرو، اگر تاویل و تطبیق نہ ہوسکے تو احترام بھی ضروری ہے۔ تاہم عمل ’’سوادِ اعظم‘‘ کی رائے پر کریں جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والا جہنم میں جائے گا، اسی طرح جمہور اہل سنت والجماعت کی مخالفت بھی جہنم میں جانے کا باعث بنے گی۔ (التنبیہ الطربی للشیخ تھانوی)
جمہور کی مخالفت میں اگر عام لوگ ہیں تو ان کی تردید ضروری ہے۔ یاد رکھو! بزرگوں کے شاذ اقوال حجت نہیں ہیں۔
آج کل ’’منکرفقہ‘‘ اہل حدیث بنے ہوئے ہیں، یہ فرقہ ہے اور اہلسنّت والجماعت سے کٹا ہوا ہے ’’فرقہ‘‘ اکابر سے کٹنے والے کو کہتے ہیں، ’’فرقہ واریت‘‘ یہ ہے کہ اکابر کے خلاف کوئی نیا عقیدہ یا عمل ایجاد کیا جائے۔ مثال کے طور پر ’’منکر حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ فرقہ ہے کیونکہ حیات انبیاء علیہم السلام کے تو شروع سے ہی قائل تھے، ’’منکرینِ حیات انبیاء‘‘ کا فرقہ بعد میں بنا، اس لیے یہ فرقہ اہل حق سے کٹا ہوا ہے۔
حضرت مولانا خیرمحمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسلام ہم تک سلسلہ وار پہنچا ہے، مثال: گاڑی کا انجن اصل ہوتا ہے، اُس سے جتنے ڈبے لگادیں، وہ سب اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے مگر یہ سب ڈبے منزل تک اس وقت پہنچیں گے جب انجن سے ملے ہوئے ڈبے سے ان کا کنکشن ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بمنزلہ انجن ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس انجن سے ملے ہوئے ڈبے کی طرح ہیں، ان کے ساتھ جو جڑا رہے گا وہ اپنی منزل (جنت) تک پہنچ جائے گا وگرنہ نہیں۔
بجلی کی ترسیل بھی پاور ہاؤس سے تعلق کی وجہ سے ملتی ہے۔ اگر کمرے یا گھر یا شہر کی بجلی کا تعلق پاور ہاؤس سے منقطع ہو جائے تو وہ کمرہ یا گھر یا شہر تاریکی میں ڈوب جائے گا۔
امام سے اگر غلطی ہو جائے اور وہ دو رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہوگیا، مقتدی نے لقمہ بھی دیا مگر امام کھڑا ہوگیا تو اب حکم یہ ہے کہ مقتدی بھی کھڑے ہو جائیں، سجدۂ سہو کرنے سے امام کی نماز صحیح ہو جائے گی۔
اور اس کی برکت سے اتباع کرنے والوں کی بھی صحیح ہو جائے گی۔ امام کی غلطی اللہ معاف کردیں گے تو مقتدی بھی اس کی برکت سے پوری نماز کا اَجر پالیں گے تو جب مصلی کے امام کی اتباع میں یہ فائدہ ہے تو پورے دین میں اگر کسی امام کی اتباع کرلی جائے تو بھی امام کے اَجر میں شریک ہو جائے گا۔(ماہنامہ الخیر ملتان)

Most Viewed Posts

Latest Posts

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عقیدہ و عمل کو اپنے عقیدہ و عمل کے ساتھ ضم کر کے انہیں معیار حق فرمایا اور اعلان فرمایا کہ ’’سنن نبوت اور سنن...

read more

اَسلاف کے مسلک پر استقامت

اَسلاف کے مسلک پر استقامت حضرت مولانا سرفراز خان صفدررحمہ اللہ نے حضرت سید نفیس الحسینی رحمہ اللہ کے انتقال پُرملال کے موقع پر جو کلمات ارشاد فرمائے وہ ہم سب کیلئے بالعموم اور سلسلہ نفیسیہ کے احباب کیلئے بالخصوص مینارۂ نور ہیں۔حضرت اقدس سید انور حسین شاہ نفیس رقم کی...

read more

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں اب میں حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مذاق فتویٰ کے بارے میں آپ ہی سے سنی ہوئی چند متفرق باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ محض فقہی کتابوں کی جزئیات یاد کرلینے سے انسان فقیہ...

read more