۔30 سالہ تحقیقات کا خلاصہ
حضرت مولانا مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:۔
تیس (۳۰) سال سے مجھے خود بھی ذاتی تجربہ یہ ہورہا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے جس مسئلہ میں جو نظریہ قائم کیا ہے واقع میں وہی راجح و حق ثابت ہوتا ہے۔ جب خوب مکمل اور گہری تحقیقات کی جاتی ہے تو وہ اس سے سرِمو تجاوز نہیں کر پاتی، پوری تحقیقات کا نچوڑ آخر میں وہی دو لفظی مسئلہ نکلتا آنکھوں سے نظر آجاتا ہے۔ اس وقت ان حضرات کے علم کا لدنی علم ہونا منکشف ہوتا ہے۔ اپنے اس ذاتی تجربہ اور ایسے ہی اور علماء کے اس تجربہ کا یہ نتیجہ دل و دماغ کی تہہ میں جم جانا ضروری ہے کہ جو شخص کسی مسئلہ میں بھی ذرّہ برابر ان سے اختلاف رکھتا ہے وہ یقینا کم نظری یا غلط فہمی یا کسی خارجی اثر میں مبتلا ہے۔
ہم چند لوگوں کا ہی نہیں تمام اُمت کا کم و بیش یہی تجربہ ہے۔
چنانچہ دیوبندی عالم وہی نہیں کہلاتا جو دیوبند کا با شندہ یا تعلیم یافتہ ہو بلکہ ہر وہ عالم دین جو فقۂ حنفی و عقائد کے راجح و قوی ترین مسائل پر عامل اور متقی ہو دیوبندی عالم کہلانے لگا۔دہلی کے شاہ صاحبان لکھنو کے مولانا عبدالحئی اور دوسرے اطراف کے اہل حق علماء جنہوں نے دیوبند کی شکل نہ دیکھی ہوگی علمائے دیوبند کہلائیں گے۔ حق و تحقیق و تقویٰ ان کی ایسی ہیئت بن گیا کہ خود اسی کا نام دیوبندیت بن گیا۔
