آدابِ طریقت کے خلاف ورزی کا ضرر
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ ایک بات سمجھ لینے کے قابل ہے کہ احکامِ شریعت کے خلاف کرنے سے تو آخرت میں عذاب ہوگا اور آدابِ طریقت کے خلاف کرنے سے معصیت نہیں ہوتی مگر دنیوی ضرر لاحق ہوجاتا ہے ۔ آخرت کا ضرر نہ ہوگا گو کبھی بواسطہ آخرت سے بھی محرومی ہوجاوے گی کیونکہ اس مخالفت کا اوّل ضرر یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا نام لینے کی حلاوت جاتی رہتی ہے، پھر تعطل ہوجاتا ہے، پھر ترکِ مستحب، پھر ترکِ سنت، پھر ترک ِ واجبات ،یہاں تک کہ سلب ِ ایمان کی نوبت آجاتی ہے ۔کہیں اگر اس حالت میں بھی ہمت سے شریعت کا کام کرتا رہے تو آخرت کا نقصان نہیں مگر انشراح و راحت و اطمینان نصیب نہ ہوگا۔ یہ غلط ہے کہ پیر کے ناراض ہونے سے اللہ میاں ناراض ہوں گے ۔ اور آدابِ طریقت میں کوئی ادب غامض نہیں ، پیر کو مکدر نہ کیا جاوے، لعن و اعتراض اس پر نہ ہو ، پیر سے غلطی ہوجانے پر نصیحت بھی کرے مگر ہو ادب سے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۷۱)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

