شیخ کو علم ہوجائے کہ اس سالک کو مناسبت نہیں
تو اس کو چلتا کردینا چاہیے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر قرائن سے علم ہوجائے شیخ کو کہ اس شخص کو مجھ سے مناسبت نہیں تو ضرور چلتا کر دینا چاہیے جیسے طبیب کو یا استاد کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ جب دیکھیں کہ مریض کا عقیدہ علاج پر نہیں جمتایا شاگرد استاد کو نظر میں نہیں لاتا تو اس کو الگ کر دیتے ہیں۔ اگر شیخ واقعی شیخ ہے تب تو یہی کرے گا اور اگر کمانے کھانے والا ہے تو اس کو نقصان کا خیال ہوگا ، وہ کاہے کو دوسری جگہ جانے دے گا۔ یا کوئی شیخ حد سے زیادہ شفیق ہو جیسے ہمارے حضرتؒ کے وہاں بڑی وسعت تھی، جتنی خدمت جس کی ہوسکی دریغ نہیں کیا، ہمارا اتنا ظرف کہاں ۔ میرے یہاں لوگ آتے ہیں ، ہمیشہ ان کے فائدہ کا خیال رکھتا ہوں۔ میں ان کو خدا کا بندہ بنانا چاہتا ہوں ، اپنا بندہ نہیں بناتا۔ جب کسی کو نفع نہ ہو یا اس کی سیری نہ ہوئی ہو تو بلا بیعت کے واپس کردیتا ہوںیا بعد بیعت کے بھی یہ معلوم ہو تو کہہ دیتا ہوں کہ اور جگہ جاؤ۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۰۹)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

