مقاصد تصوف کا خلاصہ
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ مقاصد تصوف کا خلاصہ صرف دو چیزیں ہیں طاعت و ذکر۔ ذکر کو قلب کی یکسوئی میں خاص دخل ہے ، اس لیے کبھی یکسوئی حاصل کرنے کے لیے قلب پر بھی ذکر کا تصور کیا جاتا ہے ۔ اور تصورِ شیخ اسی یکسوئی میں داخل ہے ، تصورِ شیخ سے یکسوئی حاصل ہوجاتی ہے ، پھر اس یکسوئی سے توجہ الیٰ اللہ کی استعداد ہوجاتی ہے ، پھر اس استعداد کو مقصود میں صرف کرنا ہے اور جب مقصود حاصل ہوجاوے تو پھر ان ہیئیات و قیود کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور محض ذکر قلبی پر اکتفا کرنے سے( کبھی) دھوکہ ہوجاتا ہے، بعض وقت غفلت اور بھول جانے پر بھی غافل اپنے کو ذاکر سمجھتا ہے،بخلاف ذکر لسانی کے کہ قلب اگر نہ بھی حاضر ہو تو ذکر لسانی پر اجر ملتا ہے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۷۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

