تفسیر قرآن میں اَسلاف بیزاری کا فتنہ
ابوداؤد شریف میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تمہارے بعد فتنوں کا زمانہ آنے والا ہے کہ مال کی کثرت ہو جائے گی اور قرآن عام ہو جائے گا حتیٰ کہ اس کو مؤمن اور منافق، مرد، عورت، بڑا چھوٹا، غلام، آزاد سب پڑھنے لگیں گے تو ایک کہنے والا کہے گا کہ لوگ میری اتباع کیوں نہیں کرتے حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے۔ یہ اس وقت تک میری اتباع نہیں کریں گے یہاں تک کہ میں کوئی نئی بات نہ گھڑ لوں، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نئی نئی بدعتوں سے بچتے رہو کیونکہ جو بدعت نکالی جائے گی وہ گمراہی ہوگی۔
یہ فتنوں کا دور ہے ہر طرف نئے سے نیا فتنہ سر اُٹھا رہا ہے۔ گزشتہ ادوار میں جو فتنے ظاہر ہوئے ان کے باطلانہ عقائد پر علمائِ حق نے شدید پکڑ کی کیونکہ ان فتنوں کا باطل ہونا ظاہر اور واضح تھا۔ مثال کے طور پر فتنۂ ارتداد مرزائیت، بہائیت، اسماعیلیت اور پرویزیت وغیرہ۔ گزشتہ دور کلامی اور کتابی دور تھا جس میں دونوں طرف کے علماء مناظرہ کرتے یا کتابیں لکھتے حتیٰ کہ باطل اور حق واضح ہو جاتا اور عوام گمراہی سے محفوظ ہو جاتے۔
آج میڈیا کا دور ہے، دُنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے کمپیوٹر ایج اور انٹرنیٹ کریز ہے، فاصلے اور اوقات سمٹ کر رابطوں میں ضم ہوگئے ہیں اور دُنیا مٹھی میں آگئی ہے۔ ہر شخص نئی تحقیقات پڑھ سکتا ہے، سن سکتا ہے، دیکھ سکتا ہے اور جس کے جی کو جو چیز اچھی لگے اس پر عمل کرنا شروع کردیتا ہے۔ گفتگو، تقریر، تحریر اور ہر فن کا ماہر میڈیا کے ذریعے اپنی غلط یا صحیح بات پُرزور دلائل کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرتا ہے اور سیدھی سادی عوام اس کے دلائل سن کر اس پر ایمان لے آتی ہے اور اُلٹے سیدھے عقائد پر زندگی بسر کرنا شروع کردیتی ہے۔
عقائد باطلہ کے حامل لوگ صراطِ مستقیم پر چلنے کے بجائے اِدھر اُدھر کا راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ چاہے وہ راستہ کانٹوں سے بھرا ہی کیوں نہ ہو اس کا استعمال جائز یا ناجائز ہی کیوں نہ ہو، وہ ہر طریقے سے اپنے عقائد اور نظریات عوام پر ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ اس طریقہ میں وہ کامیاب بھی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے تئیں لوگوں کو نئے دور کے نئے مسائل سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اسلاف کا طریقہ چھوڑ کر نئے طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ دوسری طرف علماء حق اپنے اسی سیدھے راستے پر چل رہے ہیں جس پر ان کے اَسلاف گامزن تھے۔ وہ بھی اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے باطل عقائد پھیلائے جارہے ہیں، ان کا سدباب ہونا چاہیے۔
بعض ہم مسلک ساتھی کہتے ہیں کہ ہمارا بھی کوئی ٹی وی چینل ہونا چاہیے تاکہ غلط عقائد کے خلاف پیش بندی کی جاسکے لیکن یہ صرف اس وقت ممکن ہوگا جب اکابر علماء کرام مل بیٹھ کر کوئی فتویٰ دیں تب ہی کوئی چینل بنایا جاسکے گا جبکہ مختلف ٹی وی چینلز پر بعض علماء درشن بھی کراتے رہتے ہیں اور عوام کو اِسلام سمجھاتے رہتے ہیں تاہم اس وقت پرنٹ میڈیا پر اخبار، ہفت روزے، ماہنامے وغیرہ مل سکتے ہیں اور مسلک حق کے ابلاغ کا انہیں ذریعہ بنایا جاسکتا ہے اور لوگوں کو موجودہ دور کے نام نہاد مفکر، دانشور، پروفیسرز اور ڈاکٹرز جنہوں نے قرآنی احکام کو کھیل سمجھ رکھا ہے ان کی اصلیت بتائی جاسکتی ہے۔ بعض مفکر اور دانشور تو ایسے ہیں کہ خود غیرمتشرع ہیں اور شرعی مسائل ایسے بیان کرتے ہیں جیسے سارے علم کا نزول انہی پر ہوا ہے۔ وہ اسلام کی امریکی تعبیریں کرتے ہیں، ہر کام کی طرح شرعی مسائل کے سمجھنے اور سمجھانے کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ لیکن جدیدیت زدہ طبقہ ان پابندیوں سے آزاد ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’اگر علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو قرآن پاک کے معانی پر غوروفکر کرو۔ اس میں اوّلین و آخرین کا علم ہے۔‘‘ مگر کلام پاک کے معنی کے لیے جو شرائط و آداب ہیں ان کی رعایت رکھنا نہایت ضروری ہے۔ جیساکہ اس دور میں جو شخص عربی کے چند الفاظ جان لے بلکہ اس سے بڑھ کر بغیر کسی لفظ کے معنی جانے اُردو ترجمہ دیکھ کر اپنی رائے کو اس میں داخل کردے اس شخص کے بارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن پاک کی تفسیر میں اپنی رائے سے کچھ کہے اگر وہ صحیح ہو تو تب بھی اس نے خطا کی۔
مگر آج کل کے روشن خیال اور جدید نظریات کے حامل نام نہاد مفکر اور مقرر لوگ قرآن پاک کی ہر آیت میں سلف کے اقوال کو چھوڑ کر نئی بات پیدا کرتے ہیں۔ اس زمانہ میں ہر روشن خیال اس قدر جامع الاوصاف اور کامل و مکمل بننا چاہتا ہے کہ وہ معمولی سی عربی عبارت لکھنے لگے بلکہ صرف اُردو عبارت ہی دلچسپ لکھنے لگے یا تقریر برجستہ کرنے لگے تو وہ پھر تصوف میں جنید و شبلی کا اُستاد ہے۔ فقہ میں مستقل مجتہد ہے۔
قرآن پاک کی تفسیر میں جو نئی سے نئی بات دل چاہے گھڑے نہ اس کا پابند کہ سلف میں سے کسی کا یہ قول ہے یا نہیں نہ اس کی پروا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اس کی نفی تو نہیں کرتے وہ دین و مذہب میں جو چاہے کہے جو منہ میں آئے بکے کیا مجال ہے کہ کوئی شخص اس کی نکیر کرسکے یا اس کی گمراہی کو واضح کرسکے۔ جو یہ کہے کہ یہ بات اَسلاف کے خلاف ہے وہ لکیر کا فقیر ہے، تنگ نظر ہے، پست خیال ہے، تحقیقات جدیدہ سے عاری ہے۔
لیکن جو یہ کہے کہ آج تک جتنے اَکابر و اَسلاف نے جو کچھ کہا ہے وہ سب غلط ہے اور دین کے بارے نئی بات نکالے وہ دین کا محقق ہے حالانکہ اہل فن تفسیر کے لیے پندرہ علوم پر مہارت ضروری بتائی ہے۔ مختصراً عرض کرتا ہوں جس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ قرآن پاک کے احکام و مسائل تک رسائی ہر شخص کو نہیں ہوسکتی۔
۔۔۔ لغت جس سے کلام پاک کے مفرد الفاظ کے معنی معلوم ہوں۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے اس کو جائز نہیں کہ بغیر لغت عربی کے جانے کلام پاک میں کچھ لب کشائی کرے اور صرف چند لغات کا معلوم ہو جانا کافی نہیں ہے۔ بسا اوقات ایک لفظ چند معانی میں مشترک ہوتا ہے اور وہ ان میں سے ایک یا دو معنی جانتا ہے اور فی الواقع اس جگہ کوئی اور معنی مراد ہوتے ہیں۔
۔۔۔ نحو کا جاننا ضروری ہے اس لیے کہ اعراب کے تغیر و تبدل سے معنی بالکل بدل جاتے ہیں اور اعراب کی معرفت نحو پر موقوف ہے۔
۔۔۔ علم الصرف کا جاننا ضروری ہے اس لیے کہ صیغوں کے اختلاف سے معانی بالکل مختلف ہو جاتے ہیں۔ ابن فارس کہتے ہیں کہ جس شخص سے علم الصرف فوت ہوگیا اس سے بہت کچھ فوت ہوگیا۔
علامہ زمخشری نقل کرتے ہیں:۔
۔’’ایک شخص نے قرآن پاک کی آیت ’’یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِھِمْ‘‘ (جس دن کہ ہم ہر شخص کو اس کے مقتدی اور پیش رو کے ساتھ پکاریں گے) اس کی تفسیر کی ناواقفیت کی بنا پر یہ کی ’’جس دن ہر شخص کو ان کی ماؤں کے ساتھ پکاریں گے‘‘۔
امام کا لفظ جو مفرد ہے اس کو اُم کی جمع سمجھ لیا، اگر وہ صرف جانتا ہوتا تو معلوم ہوتا کہ اُم کی جمع امام نہیں ہوتی۔
۔۔ اشتقاق کا جاننا ضروری ہے اس لیے کہ لفظ جبکہ دو مادوں سے نکلا ہو اس کے معنی مختلف ہوں گے۔ جیساکہ مسیح کا لفظ ہے کہ اس کا اشتقاق مسح سے بھی ہے جس کے معنی چھونے اور تر ہاتھ کسی چیز پر پھیرنے کے ہیں اور مساحت سے بھی ہے جس کے معنی پیمائش کے ہیں۔
۔۔۔ علم معانی کا جاننا ضروری ہے جس سے کلام کی ترکیب معنی کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہے۔
۔۔علم بیان کا جاننا ضروری ہے جس سے کلام کا ظہور و خفا تشبیہ و کنایہ معلوم ہوتا ہے۔
۔۔ علم بدیع جس سے کلام کی خوبیاں تعبیر کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں یہ تینوں فن علم بلاغت کہلاتے ہیں جو مفسر کے اہم علوم میں سے ہیں۔ کلام پاک جوکہ سراسر اعجاز ہے اس سے اس کا اعجاز معلوم ہوتا ہے
۔۔۔ علم قرأت کا جاننا ضروری ہے اس سے مختلف قرأتوں کی وجہ سے مختلف معانی معلوم ہوتے ہیں اور بعض معنی کے دوسرے معنی پر ترجیح معلوم ہوتی ہے۔
۔۔ علم عقائد کا جاننا ضروری ہے اس لیے کہ کلام پاک میں بعض آیات ایسی بھی ہیں جن کے ظاہر معنی کا اطلاق حق تعالیٰ سبحانہ پر صحیح نہیں اس لیے ان میں کسی تاویل کی ضرورت پڑے گی جیسے ’’یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ‘‘۔
۔۔ اُصول فقہ کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ جس سے وجوہ استدلال و استنباط معلوم ہوسکیں۔
۔۔ اسباب نزول کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ شانِ نزول سے آیت کے معنی واضح ہوں گے اور بسا اوقات اصل معانی کا معلوم ہونا بھی شانِ نزول پر موقوف ہوتا ہے۔
۔۔۔ ناسخ و منسوخ کا معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ منسوخ شدہ احکام معمول عام سے ممتاز ہوسکیں۔
۔۔ علم فقہ کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ جزئیات کے احاطہ سے کلیات پہچانے جاتے ہیں۔
۔۔۔ ان احادیث کا جاننا ضروری ہے جو قرآن پاک کی مجمل آیات کی تفسیر میں واقع ہوئی ہیں۔
۔۔ علم وہبی ہے جو حق تعالیٰ شانہ کا عطیۂ خاص ہے جو اپنے مخصوص بندوں کو عطا فرماتا ہے جس طرح اس حدیث شریف میں اشارہ ہے: ’’من عمل بما علم ورثہ اللّٰہ علم مالم یعلم‘‘ (جب کہ بندہ اس چیز پر عمل کرتا ہے جس کو وہ جانتا ہے تو حق تعالیٰ ایسی چیزوں کا علم عطا فرماتا ہے جس کو وہ نہیں جانتا)۔
اب جو لوگ اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے دُنیا کی آسانی کے لیے قرآن پاک کو پھیلادیا ہے، وہ ان احکامات کی روشنی میں موجب ہلاکت اور فساد ہے۔ قرآن پاک کا ترجمہ موجب برکت تو ہے لیکن ان سے مسائل کا استنباط کرنا علوم قرآن سے واقفیت کے بغیر ہرگز جائز نہیں تاوقتیکہ ان علوم سے واقفیت نہ ہو جن کا ذکر مفصل گزر چکا ہے۔
درِمنثور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا گیا ہے کہ ’’یُؤْتی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَائُ‘‘ اس سے مراد قرآن کی معرفت، اس کے ناسخ و منسوخ، محکم و منشا، مقدم مؤخر، حلال و حرام اور اس کے امثال وغیرہ کا جاننا ہے۔
درج بالا دلائل کی روشنی میں جدید مفسرین کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اسلاف کے طریقہ کو چھوڑ کر علومِ قرآن میں رسوخ ممکن نہیں۔ مفسرین کی پہلی جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تھی جنہوں نے حدیث و سنت کے ساتھ قرآن کی تفسیر و تشریح کی ہے۔
آج اگر انہی بنیادوں کو نظرانداز کرکے کوئی نئی راہ نکالی جائے گی تو نتیجہ سوائے گمراہی کے کچھ نہیں نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی گمراہی اور فتنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
