شبِ قدر میں حق تعالیٰ کی عنایت اور عجیب حکمت
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولا نا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ شریعت نے ہماری راحت کی کس قدر رعایت کی ہے کہ لیالی قدر (یعنی شب قدر کے مواقع) پے در پے( مسلسل اور لگا تار) نہیں ہیں بلکہ طاق راتیں ہیں یعنی ۲۳٫۲۱، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ ویں راتیں۔ حج میں ایک ایک رات کا فصل(وقفہ) رکھا گیا ہے تاکہ ایک رات زیادہ جاگ کر بیچ کی رات میں سولو۔
سبحان اللہ ! اس میں عجیب حکمت ہے کہ شبِ قدر کی تاریخ متعین نہیں کی کیونکہ مقصود تو پانچ راتوں میں جگانا ہے۔ پھر سبحان اللہ! اس میں یہ کیسا اعتدال ہے کہ متواتر پانچ راتوں میں نہیں جگایا، ایک رات جگایا اور ایک رات سلایا اور پھر اس سونے میں بھی ثواب جاگنے ہی کا دیا اور یہ بات میں اپنی طرف سے گھڑ کر نہیں کہتا، حدیث پاک سے ثابت ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں گھوڑا پالے تو اس کی لید، اس کا پیشاب سب وزن ہو کر اس کو نیکیاں ملیں گی۔ کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ میزان میں لید رکھ دی جائے گی، میزان میں لید کے وزن کی کوئی چیز رکھ دی جائے گی تو جب اس کے گھوڑے کی لید اور پیشاب میں بھی ثواب ہے کیونکہ وہ گھوڑا ثواب کا ذریعہ تھا حالانکہ اس کے قصد سے ہوا تو یہاں یہ سونا بھی جب جاگنے کا ذریعہ ہے اور وہ ذریعہ ہے عبادت کا اور ہوا بھی ہے تو اسی عبادت کے ارادہ سے اس میں کیوں ثواب نہ ملے گا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

