شبِ قدر میں جاگنے کا طریقہ
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ شبِ قدر میں جاگنا چاہئے اور خدا کی عبادت کرنا چاہئے۔ ان راتوں میں حضور ﷺ نے رمضان کی دوسری راتوں کے مقابلہ میں زیادہ جاگنے کا اہتمام فرمایا اور آپ ان راتوں میں ازواج مطہرات کو بھی اہتمام سے جگاتے تھے۔ بہر حال یہ وقت بڑا عزیز ہے، بڑے فیوض و برکات کا وقت ہے، اس میں جہاں تک ہوسکے اعتکاف کرو، اور اگر یہ نہ ہوسکے تو ان پانچوں راتوں ہی میں جاگ لو۔ اگر پوری رات نہ جاگ سکو تو بعض حصہ میں جاگ لو، بعض کے بھی بعض حصہ میں جاگ لو تب بھی کافی ہے۔ اگر ساری رات نہ جاگ سکے اور نیند کا غلبہ ہوا اور اکثر حصہ جاگ لے تب بھی شبِ قدر کی فضیلت ملے گی۔ لیلۃ القدر کی پوری رات کی فضیلت ہے اور رات کے اکثر حصہ عبادت کرنے سے پوری رات کا ثواب ملتا ہے۔ اگر پوری رات جاگنے کی ہمت نہ ہو تو رات کے اکثر حصہ میں جاگنے کو تو چھوڑنا ہی نہ چاہئے اور بہتر یہ ہے کہ یہ اکثر حصہ اخیر رات کا تجویز کیا جائے کیونکہ اول تو اس وقت معدہ خالی ہوجاتا ہے، عبادت اور دعا میں خوب جی لگتا ہے۔ دوسرے حدیث میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ اخیر رات میں روزانہ اپنے بندوں کے حال پر خاص رحمت متوجہ فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ اخیر رات میں ویسے بھی سکون ہوتا ہے اور اس میں ہر رات شریک ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

