شبِ بیداری کے لئے جمع ہونے کا اہتمام منع ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ شبِ بیداری کے لئے فرائض سے زیادہ اس میں لوگوں کو جمع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہر چند کہ اجتماع سے (یعنی ایک ساتھ جمع ہوکر) شبِ بیداری سہل تو ہوجاتی ہے مگر نفل عبادت کے لئے لوگوں کو ایسے اہتمام سے بلانا اور جمع کرنا یہ خود شریعت کے خلاف ہے البتہ اتفاقاً اگر کچھ لوگ جمع ہوگئے ہوں تو اس کا مضائقہ نہیں۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کسی ختنہ میں بلائے گئے تو آپ نے فرمایا کہ پیغمبر خدا ﷺ کے زمانہ مبارک میں ہم لوگ ختنہ میں نہیں جاتے تھے اور نہ اس کے لئے بلائے جاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کام کے لئے لوگوں کو بلانا سنت سے نہیں، اس کے لئے بلانے کو صحابی نے ناپسند فرمایا اور جانے سے انکار کیا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ بلانا اہتمام کی دلیل ہے تو شریعت نے جس امر کا اہتمام نہیں کیا اور بلانے کی ترغیب نہیں دی تو اس کا اہتمام کرنا دین میں نئی بات ایجاد کرنا ہے ۔اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جب مسجد میں چاشت کی نماز کے لئے جمع دیکھا تو براہِ انکار اس کو بدعت فرمایا اور اس بنا پر فقہاء نے نفل جماعت کو مکروہ کہا ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

