قرآن کا صرف ترجمہ شائع کرنا جائز نہیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ لوگوں نے ایک قرآن صرف اردو ترجمہ کی صورت میں متن قرآن کے بغیر شائع کیا ہے۔ خوب سن لیجئے کہ اس کا خریدنا حرام اور ناجائز ہے کیونکہ اس کا منشاء ( اور غرض ) یہی ہے کہ یہ لوگ الفاظ قرآن کو بیکار سمجھتے ہیں۔ دوسرے اس میں بڑی خرابی یہ ہے کہ اگر یہ صورت شائع ہوگئی تو اندیشہ ہے کہ کبھی یہود و نصاری کی طرح مسلمانوں کے پاس بھی قرآن کا ترجمہ ہی رہ جائے اور اصل غائب ہو جائے جیسا کہ توریت و انجیل کے تراجم ہی آج کل دنیا میں رہ گئے ہیں اور اصلی کتاب معدوم (ختم) ہوگئی۔ پھر ترجمہ کے اندر ہر شخص کو آسانی سے تحریف کا موقع مل جائے گا اور جب اصل قرآن بھی ترجمہ کے ساتھ ہوگا تو کسی کی تعریف چل نہیں سکتی کیونکہ اس سے ہر شخص ترجمہ کا مقابلہ کرکے اس کی صحت و خطاء
کو موازنہ کر سکے گا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

