ہدیہ دینے والے کو دعا دینا
مقالاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت عبد الرحمن بن عبد قاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے اور وہ اس کے کرنے والے کو کہے *جزاک اللہ خیرا* یعنی اللہ تعالیٰ تجھ کو نیک عوض دے تو اس نے (اس کی) ثناء (و دعا) کا پورا حق ادا کردیا۔ (ترمذی)
فائدہ: اس میں تعلیم ہے اور بعونہ تعالیٰ (یعنی اللہ تعالی کی مدد سے) صلحاء و مشائخ کی عادت بھی ہے کہ جو شخص ان کی خدمتِ قلیل یا کثیر سے کرتا ہے اس کی بہت قدر کرتے ہیں اور اظہارِ خوشی کے ساتھ ہدیہ دینے والے کو دعا دیتے ہیں۔ اس میں علاوہ برکت و فضیلت نفس اتباع سنت کے محسن کی تطیبِ قلب بھی ہے جو استقلالاً بھی طاعت ہے( یعنی احسان کرنے والے کا دل خوش کرنا بھی ہے جو خود بھی ایک عبادت ہے)۔ پس بے قدری اور نخوت (غرور، بددماغی) کرنا جیسا کہ بعض بدعیین یا ناقصین کی عادت ہے سخت مذموم بات ہے اور ایک گونہ ناشکری ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

