گناہوں کی لذت، ایک دھوکہ (شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)۔
بزرگوں نے فرمایا ہے کہ گناہ کی لذت حقیقت میں لذت نہیں ہے بلکہ لذت کا دھوکہ ہے اور اس کی مثال یہ دی ہے کہ جیسے کسی کو خارش کی بیماری ہو جائے تو اس کو کھجانے میں لذت آتی ہے ۔ یہاں تک کہ ہماری اردو میں مثل مشہور ہے کہ مزاکھاج میں ہے یا راج میں ہے۔ راج میں مزاہے یعنی حکومت میں اور کھاج میں بھی مزا ہے یعنی کھجانے میں تو خارش زدہ عضو کو کھجانے میں اتنی لذت ہے ۔ واقعی اس میں زیادہ مزا آتا ہے لیکن اس مزے کے بعد جو جلن ہوتی ہے ، جو بیماری میں اضافہ ہوتا ہے وہ ساری لذت کو ایک طرف کردیتا ہے۔
اس کے برخلاف ایک شخص ہے جس کو خارش کی بیماری نہیں ہے ، تندرست ہے تو حقیقی لذت تندرست کو حاصل ہے یا اس خارش زدہ آدمی کو حاصل ہے جس کو کھجانے میں مزا آرہا ہے؟ حقیقت میں تندرست آدمی کو لذت حاصل ہے ۔ اسی طرح حقیقی لذت گناہ کے چھوڑنے میں ہے ، گناہ کرنے میں نہیں ہے۔جس دن اس حقیقی لذت کا ادراک ہوگیا ، اس کا پتہ چل گیا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا کچھ حصہ عطا فرمادیا تو اس دن پتہ لگے گا کہ حقیقی لذت کیا ہوتی ہے۔ ان شاء اللہ ،اللہ تعالیٰ وہ عطا فرمائیں گے تو زندگی میں بھی لطف آئے گا ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں لطف آئے گا ، عبادت میں مزا آئے گا ، عبادت کے اندر نور محسوس ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو عطا فرمائے، آمین۔
۔(درسِ شعب الایمان، جلد ۳، صفحہ ۹۰)۔
یہ ملفوظات حضرت ڈاکٹر فیصل صاحب نے انتخاب فرمائے ہیں ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

