اتباع سنت کے بغیر مدینے میں رہائش (ملفوظات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)۔
ارشاد فرمایا کہ دین میں اصل چیز نبی کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی اتباع ہے ۔ سنتوں سے محبت ہو، سنتوں کی دل میں عظمت ہو اور سنتوں پر عمل کی توفیق ہو۔ پھر آدمی دور بھی ہو تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہے۔ اس کو آپ کا قرب اور معیت حاصل ہے ، اللہ بچائے یہ نہ ہو تو چاہے ساری زندگی مدینے میں گزار دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل نہیں ہوگا ۔
مدینے میں منافق بھی رہتے تھے، قرآن کہتا ہے :۔
وممن حولکم من الاعراب منٰفقون ومن اھل المدینۃ(التوبۃ: ۱۰۱)۔
مفہومی ترجمہ: اور تمہارے ارد گرد جو دیہاتی ہیں ، ان میں بھی منافق لوگ موجود ہیں ، اور مدینہ کے باشندوں میں بھی ۔ (توضیح القرآن)۔
مدینے میں منافقین کا بھی قیام تھا، منافق بھی مدینے کے اندر موجود تھے ۔ انہیں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے جسمانی طور پر قرب حاصل تھا لیکن چونکہ ایمان، عمل صالح اور اتباعِ سنت نہیں تھا اس لیے اس قرب نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے اور اپنے فضل و کرم سے ہمارے دلوں میں اتباع کا جذبہ پیدا فرمائے، آمین۔
۔(درسِ شعب الایمان، جلد اول، صفحہ ۱۴۶)۔
یہ ملفوظات حضرت ڈاکٹر فیصل صاحب نے انتخاب فرمائے ہیں ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

