کیا قربانی عقل کے خلاف ہے
ملفوظاتِ حکیم الامّت مجددالملّت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
جولوگ قربانی کو عقل کے خلاف کہتے ہیں وہ سن لیں کہ پوری دنیا میں قربانی کا رواج ہے اور قوموں کی تاریخ پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادنیٰ چیز اعلیٰ کے بدلہ میں قربان کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سی بڑی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ ہم بچے تھے تو یہ بات سنی تھی کہ کسی کو زہریلا سانپ کاٹے تو وہ انگلی کاٹ دی جائے تاکہ پورا جسم زہریلے اثر سے محفوظ رہے۔ گویا انگلی پورے جسم کے لئے قربان کی گئی ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کوئی دوست آجائے تو جو کچھ ہمارے پاس ہو اس کی خوشی کے لئے قربان کرنا پڑتا ہے،گھی، آٹا، گوشت وغیرہ قیمتی اشیاء اس پیارے کے سامنے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔
اور اگر اس سے زیادہ عزیز ہو تو مرغے مرغیاں حتیٰ کہ بھیڑیں اور بکرے قربان کئے جاتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر گائے اور اونٹ بھی عزیز مہمان کے لئے قربان کردئیے جاتے ہیں۔ طب (ڈاکٹری) میں دیکھا گیا ہے کہ وہ قومیں جو اس کو جائز نہیں سمجھتیں کہ کوئی جانور قتل ہو وہ بھی اپنے زخموں کے سیکڑوں کیڑوں کو مار کر اپنی جان پر قربان کر دیتے ہیں۔
اوراگر اس سے اوپر چلو تو ہم دیکھتے ہیں کہ ادنیٰ لوگوں کو اعلیٰ کے لئے قربان کیا جاتا ہے مثلاً بھنگی ہیں، گو تمام قوموں کی عید ہی کا دن ہو مگر ان بیچاروں کے سپرد وہی کام ہوتا ہے بلکہ ایسے ایام میں ان کو زیادہ تاکید ہوتی ہے کہ لوگوں کی آسائش اور آرام کے خاطر کوئی گندگی کسی راستہ میں نہ رہنے دیں گویا ادنیٰ کی خوشی اعلیٰ کی خوشی پر قربان ہوئی۔ بعض ہندو گئو رکھشا بڑے زور سے کرتے ہیں “لداخ” کے ملک میں تو دودھ تک نہیں پیتے، کیونکہ یہ بچھڑوں کا حق ہے، مگر یہاں کے ہندو دھوکہ دے کر اس کا دودھ دوہ لیتے ہیں اور پھر اس سے اور اس کی اولاد سے سخت کام لیتے ہیں یہاں تک کہ اپنے کاموں کے لئے انہیں مار مار کر درست کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کی قربانی ہے۔ ادنی سپاہی اپنے افسر کے لئے اور وہ افسر اپنے اعلیٰ افسر کے لئے اور وہ اعلیٰ افسر اپنے بادشاہ کے بدلہ میں قربان ہوتا۔ پس خدا نے بھی اس فطرتی مسئلہ کو برقرار رکھا، اور اس قربانی میں تعلیم دی کہ ادنیٰ اعلیٰ کے لئے قربان کیا جائے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

