قربانی کے خلافِ عقل ہونے کا شبہ اور اس کا جواب

قربانی کے خلافِ عقل ہونے کا شبہ اور اس کا جواب

ملفوظاتِ حکیم الامّت مجددالملّت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ

اگر کوئی کہے کہ قربانی عقل کے خلاف ہے کیونکہ (قربانی کے ذریعہ) خدا تعالیٰ خرچ کراکر لیتے بھی نہیں پھر کیا چیز مطلوب ہے کیوں خرچ کرواتے ہیں؟ اس کا مقصد کیا ہے، اگر یہ کہو کہ ہم کو گوشت کھلانا منظور ہے تو منیٰ اور مکہ معظمہ میں ہزاروں جانور ذبح ہوتےہیں ان کا کوئی گوشت بھی نہیں کھاتا، بالکل ضائع ہوتے ہیں اور یہ عقل کے خلاف ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جناب من، ہے تو فحش بات لیکن سمجھانے کیلئے عرض ہے کہ اگر تمہاری عقل میں کسی شئی کا نہ آنا خلافِ عقل ہونے کی دلیل ہے تو ہمارا آپ کا پیدا ہونا جس طریقہ سے ہوا ہے، وہ بھی عقل کے خلاف ہے، اور اس کا امتحان یہ ہے کہ ایک بچہ ایسا تجویز کیا جائے کہ تہ خانہ( اور کوٹھری )میں اس کی پرورش کی جائے اور اس کے سامنے کبھی اس کا تذکرہ نہ کیا جائے کہ آدمی کس طرح پیدا ہوتا ہے حتیٰ کہ جب بیس برس کا ہوجائے تو اس سے اچانک کہا جائے کہ آدمی اس طریقہ سے پیدا ہوتا ہے، تو ہرگز اس کی عقل میں نہ آئے گا۔ اور ہم چونکہ رات دن دیکھتے اور سنتے ہیں کہ اس طریقہ سے انسان پیدا ہوتا ہے اس لئے ہم کو خلافِ عقل نہیں معلوم ہوتا، تو جناب ہم تو جب سے پیدا ہوئے ہیں ہمارے تمام حالات ہی خلافِ عقل ہیں، ہماری عقل تو بس کھانے کمانے کی ہے ایسے ہی جیسے کسی نے کسی بھوکے سے پوچھا تھا کہ دو۲ / اور دو۲ / کتنے ہوتے ہیں؟ کہا کہ چار روٹیاں، ایسے ہی ہماری عقل صرف اس قدر ہے کہ کھالو اور پی لو اور باتیں بنالو، جب اتنی عقل ہے تو شریعت کے اسرار کہاں سے سمجھ میں آئیں۔

اسی طرح قربانی کی حکمت اگر ہماری عقل میں نہ آئے تو قابلِ انکار کیسے ہوگئی؟ اسلئے ہمارے ذمہ ضروری نہیں ہے کہ اس حکمت کو بیان کریں لیکن تبرعاً بتائے دیتے ہیں۔

نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

جس پر تم نے احسان کیا ہے اس کے بھی شر سے بچو

جس پر تم نے احسان کیا ہے اس کے بھی شر سے بچو ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرمایا کہ کثرتِ اختلاط سے باہم دوستی ہوجاتی ہے جس میں بعض دفعہ اپنے راز دوسرے پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ دوست اپنے دوسرے دوستوں پر ان...

read more

دوستی و دشمنی میں اعتدال کا حکم

دوستی و دشمنی میں اعتدال کا حکم ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرمایا کہ اتحاد و اتفاق میں اس کی ضرورت ہے کہ اتنا اختلاط بھی نہ ہو کہ اپنے خاص اسرار (راز کی باتیں) دوسروں سے ظاہر کر دے کیونکہ ممکن ہے کہ کسی وقت...

read more

مخلوق کو دیکھ کر عمل نہ کرنا بھی ریاء ہے

مخلوق کو دیکھ کر عمل نہ کرنا بھی ریاء ہے ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ جیسے مخلوق کو دکھانے کے لئے عمل کرنا ریاء ہے، اسی طرح ان کے دیکھنے کی وجہ سے...

read more