قربانی کی فضیلت تو ایسی ہے کہ واجب نہ ہو تب بھی کرنا چاہئے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
فرمایا کہ قربانی کی فضیلت اور اس کا ثواب تو اتنا ہے کہ اگر کسی کے ذمہ واجب بھی نہ ہو تو بھی ثواب حاصل کرنے کے لئے قربانی سے نہ چوکے۔ آخر دنیا کے بہت سے کام بلاضرورت محض تفریح کے واسطے کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے اگر تھوڑا سا خرچ کر دوگے تو کیا حرج ہوگا۔ اور اگر ضرورت ہی پر مدار رکھتے ہو اور یوں کہتے ہو کہ صاحب جو فرائض اور واجبات ہیں، ہم تو وہی ادا کریں گے تو دنیا کے کاموں میں اس پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ ضرورت تو اس قدر ہے کہ جان بچانے کے لئے جَو کی روٹی بھی کافی ہے۔ گرمی سردی کی ہلاکت سے بچاؤ کے لئے موٹا(ٹاٹ کا) کپڑا مل جائے وہ کافی ہے۔ پھر یہ پلاؤ اور زردے اور کوفتے کیوں کھاتے ہو؟ اور ململ، مخمل (اور عمدہ باریک قسم کے کپڑے) کیوں پہنتے ہو؟ اللہ اکبر! نفس کے خوش کرنے کو تو غیرضروری کام بھی کرلیں اور دین کے کام میں یہ پوچھتے ہو کہ صاحب کیا بہت ضروری ہے؟ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر اس کے چھوڑنے (یعنی قربانی نہ کرنے) میں بہت بڑا حرج ہے تب تو اس کا اہتمام کریں ورنہ چھوڑ دیں۔ اعتقاد درست رکھنے کے لئے تو بے شک ضرور پوچھو کہ قربانی (ہم پر) ضروری ہے یا نہیں کیونکہ ضروری کو ضروری اور غیر ضروری کو غیر ضروری کا اعتقاد رکھنا واجب ہے لیکن عمل کرنے کے لئے تو یہ پوچھنا کافی ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتے ہیں؟ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ اس عمل سے خوش ہوتے ہیں تو بلاتامل نہایت مستعدی اور رغبت کے ساتھ اس کو کرو۔ بہت سے لوگ دین کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور بدنی اعمال( نماز وغیرہ) میں بڑے چاق و چوبند ہیں لیکن روپیہ خرچ کرنے کا جہاں وقت آیا تو حیلہ حوالہ کرتے ہیں۔ یہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

