مصنوعی بزرگوں کی دو قسمیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ (۱) بعض تو خود اپنے کو غلطی سے اہل اللہ سمجھ رہے ہیں اور ان کی غلطی کی بناء (بنیاد) یہ ہے کہ چند جاہل عوام معتقد ہوگئے اور انہوں نے حضور، حضور، مولانا، مولانا، شاہ صاحب کہنا شروع کر دیا تو یہ سمجھے کہ میں (ضرور) کچھ ہوں گا کیونکہ جو معتقد ہوئے ہیں، کچھ سمجھ ہی کے معتقد ہوئے ہیں۔ سبحان اللہ! اچھا استدلال ہے۔ اگر مخلوق کی عقیدت پر بزرگی کا دارو مدار ہے تو سب ہی تو بزرگی کے معتقد نہیں، غیر معتقدین بھی تو ہیں، ان کی بد اعتقادی سے کیوں نہ استدلال کیا جائے۔ غرض ایسے لوگوں کو شبہ ہے کہ ہم بزرگ ہیں اور ہیں دنیا دار۔ (۲) دوسرے وہ لوگ جو خود دھوکہ میں نہیں (مگر) دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ تو ان سب کی دوستی بھی محض دنیا کے واسطے ہوتی ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

