اجابتِ دعا کے دو درجے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ (دعا کی) منظوری اور اجابت اور قبول کے دو درجے ہیں: (۱) ایک یہ کہ درخواست لے لی جائے اور اس پر توجہ کی جائے۔ (۲) دوسرے یہ کہ درخواست کے موافق فیصلہ بھی کردیا جائے۔ صاحبو! درخواست کا لیا جانا بھی ایک قسم کی منظوری اور بڑی کامیابی ہے چنانچہ دنیا میں اپیل کا منظور ہونا بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے اور بڑی ناکامی اس شخص کی ہے جس کی اپیل ہی نہ لی جائے۔ *اجیب دعوة الداع* منظوری کی قسم اوّل پر محمول ہے کہ ہر دعا کرنے والے کی درخواست کو لے لیتے ہیں، بے توجہی نہیں کی جاتی اور جب درخواست لے لی گئی اور اگر اس کا پورا کرنا ہماری مصلحت کے خلاف نہ ہوا تو ضرور پوری ہوگی۔
نیز اسی ضمن میں ایک اور موقع پر فرمایا کہ ہر دعا ضرور پوری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا میں مطلوبہ چیز نہ ملی تو آخرت میں اس دعا کا عوض، صلہ اور انعام دیا جائے گا جس پر بندہ از حد (نہایت) مسرور ہوگا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

