مروجہ جہیز کی بنیاد محض تفاخر اور نام و نمود پر ہے
ملفوظ: مروجہ جہیز کی بنیاد محض تفاخر اور نام و نمود پر ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ غور کر کے دیکھا جائے تو رسموں کی بناء اور اصل بھی تفاخر ہے، حتیٰ کہ بیٹی کو جو چیز جہیز میں دی جاتی ہے اس کی اصل بھی یہی ہے۔ بیٹی لختِ جگر کہلاتی ہے، ساری عمر تو اس کے ساتھ یہ برتاؤ رہا کہ چھپا چھپا کر اس کو کھلاتے تھے کہ اچھا ہے کوئی لقمہ ہماری بیٹی کے پیٹ میں پڑجائے گا تو کام آئے گا، دوسرے کو دکھانا بھی پسند نہ تھا کہ شاید نظر لگ جائے۔ اور نکاح کا نام آتے ہی ایسا کایا پلٹ ہوا کہ ایک ایک چیز مجمع کو دکھائی جاتی ہے۔ برتن، جوڑے اور صندوق حتیٰ کہ آئینہ کنگھی تک شمار کر کے دکھلائے جاتے ہیں۔ شاید وہ پہلے لختِ جگر تھی اور اب نہیں رہی یا اب ہے اور پہلے نہ تھی جو اب کے اور پہلے کے بعد کے برتاؤ میں بالکل الٹا فرق ہوگیا۔ اگر آپ غور کریں گے تو اس کی وجہ صرف تفاخر پائیں گے، برادری کو دکھلانا ہے کہ ہم نے اتنا دیا، یہ منظور نہیں کہ ہماری بیٹی کے پاس سامان زیادہ ہوجائے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

