جہیز دینے کا صحیح طریقہ
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ لڑکی کو جو کچھ دینا ہو اس کو رخصتی کے وقت نہ دینا کیونکہ وہ اس کو دینا نہیں بلکہ وہ تو ساس سر کو دینا ہے۔ جہیز کا سامان اگر لڑکی کے ہمراہ نہ کیا جاتا تو عقل کے موافق تھا کیونکہ یہ سب سامان لڑکی ہی کو دیا جاتا ہے اور اس وقت وہ قبضہ نہیں کرتی اور نہ اس کو خبر ہوتی ہے۔ اس کو دینا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ سردست اپنے گھر میں رکھو، جب وہ خوب گھل مل جائے اور پھر جب وہ اپنے گھر آئے اس وقت وہ تمام سامان اس کے سامنے رکھ دو، اور کہو کہ یہ سب چیزیں تمہاری ہیں، ان میں سے جتنی ضروری ہوں اور جتنا تیرا دل چاہے اور جب جی چاہے اپنی سسرال لے جانا اور جتنی چیزیں یہاں رکھنا چاہو یہاں رکھ لو۔ پھر جو چیزیں وہ تمہارے سپرد کرے ان کو احتیاط سے اپنے یہاں رکھ لینا۔ اور مصلحت یہی ہے کہ وہ ابھی سامانِ جہیز نہ لے جائے کیونکہ اس وقت تو اس کو کوئی ضرورت نہیں۔ کسی وقت جب ضرورت ہوگی لے جائیں گے۔ عقل کے موافق ہونے کے ساتھ اس میں ریاء بھی نہیں مگر چونکہ اس میں کوئی تفاخر اور دکھاوا نہیں ہے، اس لیے ایسا کوئی بھی نہیں کرتا اور اگر کوئی ایسا کرے تو لوگ اسے برا بھلا کہیں اور کنجوس بھی بنادیں، اور کہیں گے کہ خرچ کرنے سے بچنے کے لیے شریعت کی آڑ پکڑی ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

