شادی سب سے آسان عمل ہے، ہم نے اس کو دشوار بنا دیا
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ غور کرنے کی بات ہے کہ انسان کو جتنی ضرورتیں پیش آتی ہیں سب میں کچھ نہ کچھ خرچ کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً آدمی کسی کام سے جائے تو کھانا تو ضرور ہی کھائے گا، پانی سب سے سستی چیز ہے مگر اس میں بھی خرچ ہوتا ہے، خود پانی کی کوئی قیمت نہ سہی مگر لانے والے کی اجرت تو دینا ہی پڑتی ہے۔ غرض ہر چیز میں کچھ نہ کچھ خرچ کی ضرورت ہوتی ہے سوائے نکاح کے کیونکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک پیسہ پر بھی موقوف نہیں کیونکہ اس کی حقیقت ایجاب و قبول ہے اور یہ محض دو بول ہیں، ان میں کسی خرچ کی ضرورت نہیں اور مہر ادھار ہے، اس وقت اس کا کوئی تقاضا نہیں، نفس نکاح میں یہ خرچ شامل نہیں۔ اب فرمائیے سب سے سستی چیز اگر کوئی تھی تو نکاح تھا مگر اللہ بھلا کرے ہمارے بھائیوں کا کہ سب نے آپس میں کمیٹی کر کے اس کو ایسا مہنگا کردیا ہے کہ غریب آدمی کے لیے تو مصیبت ہوگئی اور اس میں شریعت کا بھی مقابلہ ہے اور عقل کا بھی۔ بھلا یہ کون سی عقل کہہ سکتی ہے کہ جس چیز میں بالکل روپے کی ضرورت نہ ہو اس میں فضول اس قدر روپیہ خرچ کر ڈالا جائے۔ ادھر شریعت کہتی ہے *”ان اعظم النكاح بركة أيسره مؤنة“*. حدیث شریف میں ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کہ وہ نکاح سب سے زیادہ برکت والا ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔ یہ ارشاد ہے جناب رسول اللہ ﷺ کا، اس میں نکاح کے سارے خرچ آگئے حتیٰ کہ مہر کی کمی بھی جس کی خصوصیت کے ساتھ فضیلت بھی وارد ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

