بزرگوں کے تبرکات کو محفوظ رکھنا
مقالاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں جس میں شتر (اونٹ) فروخت کرنے کا قصہ مذکور ہے مروی ہے کہ جب میں مدینہ طیبہ پہنچا تو حضور ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ارشادفرمایا کہ ان کو (یعنی جابر رضی اللہ عنہ کو ایک اوقیہ سونا (اونٹ کی قیمت) دے دو اور( اوپر سے ) کچھ زیادہ دیدو۔ پس انہوں نے مجھ کو ایک قیراط زیادہ دیا۔ میں نے ( دل میں) کہا کہ یہ زیادہ جو حضور ﷺ نے (علاوہ قیمت کے ) دیا ہے، یہ میری جان سے علیحدہ نہ ہو لگی (یعنی اس کو اہتمام وحفاظت سے رکھوں گا ) ۔ پس وہ میری تھیلی میں موجود رہی ، یہاں تک کہ اس کو اہلِ شام نے واقعہ حرہ میں لے لیا۔(مسلم)
فائدہ : اکثر اہل محبت کی عادت ہے کہ اپنے بزرگوں کی چیزیں برکت یا یادگار کے لئے نہایت اہتمام وذوق وشوق سے رکھتے ہیں ۔ اس حدیث میں اس کی اصل صراحتاً موجود ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

