شادی کا نہایت آسان اور سادہ طریقہ
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ منگنی میں زبانی وعدہ کافی ہے۔ نہ حجام کی ضرورت، نہ جوڑا، نشانی اور شیرینی کی حاجت اور جب دونوں (لڑکا لڑکی) نکاح کے قابل ہوجائیں زبانی یا بذریعہ خط و کتابت کوئی وقت ٹھہرا کر دولہا کو بلالیں۔ ایک اس کا سرپرست اور ایک خدمت گزار اس کے ہمراہ کافی ہے، نہ بَری کی ضرورت نہ بارات کی حاجت۔ نکاح کے بعد فوراً یا ایک آدھ روز مہمان رکھ کر اس کو رخصت کردیں اور اپنی گنجائش کے بقدر جو ضروری اور کار آمد چیزیں جہیز میں دینا منظور ہوں بلااعلان کے اس کے گھر بھیج دیں یا اپنے گھر میں اس کے سپرد کردیں۔ نہ سسرال کے جوڑوں کی ضرورت، نہ چوتھی بہوڑوں کی حاجت، اور جب چاہیں دلہن والے بلالیں اور جب موقع ہو دولہا والے بلائیں۔ اگر توفیق ہو تو شکریہ میں حاجت مندوں کو دے دو۔ کسی کام کے لیے قرضہ مت کرو، البتہ ولیمہ مسنون ہے، وہ بھی خلوص نیت و اختصار کے ساتھ نہ کہ فخر واشتہار کے ساتھ ورنہ ایسا ولیمہ بھی جائز نہیں۔ حدیث میں ایسے ولیمہ کو “شر الطعام” فرمایا گیا ہے، نہ ایسا ولیمہ جائز، نہ اس کا قبول کرنا جائز۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

