مدارس… قرآن مجید کے کاپی سنٹر

مدارس… قرآن مجید کے کاپی سنٹر

یہ حفاظ قرآن مجید کی سوفٹ کا پیز ہیں۔ اسی لئے حافظ کا ہمیشہ احترام کرنا چاہئے، حافظ کو محبت کی نظر سے دیکھنا چاہئے، احترام کرنا چاہئے، وہ اللہ رب العزت کے کلام کو سینے میں لے کے پھر رہا ہوتا ہے اور حافظ کو بھی اپنے اس کلام کی قدر کرنا چاہئے۔
قرآن مجید کی سو فٹ کاپیز کو آج کل مدارس کے اندر بنایا جاتا ہے۔ کاپی سنٹر ہوتے ہیں نا جیسے فوٹو کاپی سنٹر ہوتے ہیں۔ تو یہ جو مدارس ہیں نا ان کا ٹیکنیکل نام ہے قرآن کاپی سنٹر کہ ایک بندے کو اﷲ نے قرآن مجید کا حافظ بنا دیا تو وہ بیٹھ کر ما شاء اللہ دوسرے بچوں کے ذہن میں، دلوںمیں، اس کو کاپی کر دیتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے گھروں میں کوئی بچہ بچی قرآن مجید کا حافظ ہو۔ (ج ۲۷ ص ۸۹)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more