علم و عمل کا جامع ہونا

علم و عمل کا جامع ہونا

دوسری چیز جو سلف صالحین کے اطلاق کے لئے ضروری ٹھہرے گی وہ علوم نبوت کا حامل ہونا بھی شرط ہے۔ کیونکہ موجودہ دور میں اور سابقہ دور میں بڑے بڑے نیک اور صلحاء بھی گزرے ہیں۔ جن کی زندگی شریعت کے مطابق گزری۔ سلف صالحین کے اطلاق کے لئے محض صالحیت کو کافی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس مخصوص منصب کے لئے جن پر دینی امور میں جو اعتماد کیا جاتا ہے تو عمل صالح کے ساتھ ان کا علوم نبوت میں ماہر ہونا بھی ضروری ہے اور وہ علوم نبوت بھی دستور کے مطابق یعنی باقاعدہ مسلم الثبوت اساتذہ سے حاصل کیا ہو۔ یعنی محض کتابوں کے مطالعے اور تقریروں سے حاصل ہونے والے علم میں وہ علمی شان اور علمی ذوق نصیب نہیں ہوتا جو مدارس دینیہ کے فارغ اہل علم کو نصیب ہوتا ہے۔
تو سلف صالحین کے لقب کے لئے ما انا علیہ واصحابی کے تحت زندگی علوم نبوت کا ماہر ہونا زمانۂ رسالت سے قریب اور جو زمانۂ رسالت سے جتنا دور ہوگا عرف عام میں انہیں سلف صالحین نہیں تو نمونۂ اسلاف سے پکارا جائے گا۔
عہد رسالت سے قربت چونکہ غیر اختیاری بات ہے لہٰذا قابل اعتماد اور قابل اتباع شخصیات کا علم و عمل کا جامع ہونا اور حدیث شریف میں بتائے گئے معیار ما انا علیہ واصحابی سے متصف ہونا ضروری ہے۔
یہاں ہم مسلکی حد بندی عائد نہیں کررہے بلکہ جماعت کے حضرات متذکرہ بالا معیار پرپورے اترتے ہوں یعنی عقائد، عبادات، علم و عمل تمام معاملات دینی میں ما انا علیہ واصحابی کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
وہ قابل اعتماد اور ان کی تحقیق حجت سمجھی جائے گی وہ جو بھی ہوں جہاں بھی ہوں اور جس زمانے کے بھی ہوں۔ یہ جو سواد اعظم کی پیروی کا کہا جاتا ہے تو سواد اعظم کا معیار بھی ما انا علیہ واصحابی کی روشنی میں مقرر کیا جائے گا۔ اس معیا رکی شخصیات کا اتباع سواد اعظم کی پیروی کہلائی جائے گی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے بھی سواد اعظم کی تشریح بیاض اعظم سے کی ہے یعنی نور شریعت جس جماعت میں ہو نہ کہ عددی اکثریت دین میں حجت ہے۔ (کمالات اشرفیہ ص ۶۱)
لہٰذا کوئی بڑے سے بڑا مفکر ہو یا فلاسفر شرعاً دینی امور میں وہ قابل اعتماد نہیں ٹھہریں گے۔ جب تک وہ متذکرہ بالا سطور میں دیئے گئے معیار پر پورا نہ اترتے ہوں۔ اس معیار پر پورا اترنے والے حضرات سے اگر خطابھی ہوجائے تو اس پر بھی نیکی کا وعدہ ہے اور اس معیار پر پورا نہ اترنے والے صحیح بات بھی کریں تو وہ قابل اعتبار نہیں ہوگی۔
دیکھئے تفسیر بالرائے کرنے والے جو اس کے اہل نہیں ان کی صحیح بات کو بھی خطا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی سے اندازہ لگالیا جائے کہ مجتہد خاطی کو بھی نیکی سے نوازنا اکابر پر اعتمادکی اہمیت ظاہر کررہا ہے۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عقیدہ و عمل کو اپنے عقیدہ و عمل کے ساتھ ضم کر کے انہیں معیار حق فرمایا اور اعلان فرمایا کہ ’’سنن نبوت اور سنن...

read more

اَسلاف کے مسلک پر استقامت

اَسلاف کے مسلک پر استقامت حضرت مولانا سرفراز خان صفدررحمہ اللہ نے حضرت سید نفیس الحسینی رحمہ اللہ کے انتقال پُرملال کے موقع پر جو کلمات ارشاد فرمائے وہ ہم سب کیلئے بالعموم اور سلسلہ نفیسیہ کے احباب کیلئے بالخصوص مینارۂ نور ہیں۔حضرت اقدس سید انور حسین شاہ نفیس رقم کی...

read more

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں اب میں حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مذاق فتویٰ کے بارے میں آپ ہی سے سنی ہوئی چند متفرق باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ محض فقہی کتابوں کی جزئیات یاد کرلینے سے انسان فقیہ...

read more