صبر و شکر کی حقیقت
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ انسان کو جو حالتیں پیش آتی ہیں وہ دو طرح کی ہوتی ہیں ۔ یا تو وہ طبیعت کے موافق ہوتی ہیں، ایسی حالت کو خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھنا اور اس پر خوش ہونا اور اپنی حیثیت سے زیادہ اس کو سمجھنا اور زبان سے خدا تعالیٰ کی تعریف کرنا اور اس نعمت کا گناہوں میں استعمال نہ کرنا یہ شکر ہے۔ اور یا انسان کے ایسے حالات ہوتے ہیں جو طبیعت کے موافق نہیں ہوتے بلکہ نفس کو ان سے گرانی اور ناگواری ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں میری مصلحت رکھی ہے اور شکایت نہ کرنا اور اگر کوئی شرعی حکم ہے تو اس پر مضبوطی سے قائم رہنا اور اگر وہ مصیبت ہے تو اس کو برداشت کرنا اور پریشان نہ ہونا یہ صبر ہے۔ مثال کے طور پر نفس دین کے کاموں سے گھبراتا ہے یا گناہ کے کاموں کا تقاضا کرتا ہے خواہ نماز روزے سے جی چرائے یا حرام آمدنی کو چھوڑنے یا کسی کا حق دینے سے ہچکچاتا ہے، ایسے وقت ہمت کرکے دین کے کاموں کو بجا لائے اور گناہ سے رکے اگرچہ کسی قدر تکلیف ہو کیونکہ بہت جلدی اس تکلیف سے زیادہ آرام اور مزہ دیکھے گا، اور مثلاً اس پر کوئی مصیبت پڑگئی خواہ فقر و فاقہ کی، خواہ بیماری کی ، خواہ کسی کے مرنے کی ، خواہ کسی دشمن کے ستانے کی، خواہ مال کے نقصان ہوجانے کی ، ایسے وقت میں مصیبت کی مصلحتوں کو یاد کرے اور سب سے بڑی مصلحت ثواب ہے جس کا مصیبت پر وعدہ کیا گیا ہے اور اس مصیبت کا بلا ضرورت اظہار نہ کرے اور دل میں ہر وقت اس کی سوچ بچار نہ کرے تو اس سے ایک خاص سکون پیدا ہوتا ہے، البتہ اس مصیبت کے دور کرنے کی کوئی تدبیر ہو جیسے حلال مال کا حاصل کرنا یا بیماری کا علاج کرنا یا دعاء کرنا تو اس کا کچھ مضائقہ نہیں۔ خلاصہ یہ کہ کوئی وقت خالی نہیں کہ انسان پر کوئی نہ کوئی حالت نہ ہوتی ہو، خواہ طبیعت کے موافق ، خواہ طبیعت کے مخالف ۔ پہلی حالت میں شکر کا حکم ہے، دوسری حالت میں صبر کا حکم ہے تو صبر و شکر ہر وقت کرنے کے کام ہوئے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

