رنج و غم کا علاج
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ غم کا علاج یہی ہے کہ اس کو سوچو ہی مت ، خیال بھی مت کرو ورنہ ظاہر ہے کہ انسان جس قدر غم کا تذکرہ کرے گا اور جتنا سوچے گا اتنا ہی غم ترقی پکڑے گا۔ پھر تذکرے میں اتار چڑھاؤ بہت کرتے ہیں کہ اے اللہ کیا ہوگیا، بچے کہاں جائیں گے، بیوی کیا کرے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان باتوں کے تذکرے سے اس کا صدمہ ہی بڑھتا ہے۔ اس کا علاج تو یہ ہے کہ بالکل تذکرہ ہی چھوڑ دو ، خیال بھی مت کرو۔ اس صورت میں غم تو ہوگا مگر معتدل غم ہوگا اور وہ مضر نہیں بلکہ مفید ہے کیونکہ قدرتی طور پر رنج و غم میں بھی حکمت اور نفع ہے۔ غم سے قلب کی صفائی ہوتی ہے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ غمگین رہتے تھے جیسا کہ شمائل ترمذی میں ہے۔ فرعون نے غم نہ ہونے ہی کی وجہ سے خدائی کا دعویٰ کیا تھا ۔ پس اصل میں تو غم مفید چیز ہے مگر اس قدر جس قدر اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ باقی جو غم ہم خود بڑھالیں وہ برے ہیں۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

