شاندار موت
ایک شخص نے حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ سے ان کی آخری بیماری میں خواہش اور تمنا کو پوچھا تو وہ کہنے لگے ’’بس اب ایک خواہش باقی رہ گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اب جس کے سامنے مجھے حاضر ہونا ہے اگر مجھے یقین ہو جائے کہ وہ وقت آپہنچا ہے تو یہ عرض کرتا کہ آپ ہی کے ڈرنے مجھے بیمار ڈال دیا ہے اور آپ ہی کی زیارت کے شوق میں جل جل کر خاک ہوگیا، آپ ہی کی محبت نے مجھے گھلا کر دُبلا کردیا اور آپ ہی نے اب تک مجھے زندگی عطا کررکھی ہے۔۔۔‘‘ یہی کہتے کہتے آپ بیہوش ہوگئے، پورے ایک دن اور ایک رات کے بعد جب کچھ افاقہ ہوا تو کسی نے وصیت کی التجا کی مگر آپ نے یہ کہہ کر سب کو خاموش کردیا کہ ’’اب میں اپنا وقت ان فضول باتوں میں برباد نہیں کرنا چاہتا۔۔۔‘‘ کچھ دیر یوں ہی سکوت میں گزرے تھے کہ روحِ مبارک اس جسم کو چھوڑ کر اعلیٰ علیین کو پہنچ گئی۔۔۔
جب چادر سے چہرہ ڈھانپا جانے لگا تو ہر کہہ دمہ نے نہایت سبز روشنائی سے یہ الفاظ ان کی پیشانی پر چمکتے دیکھے اور جب جنازہ اُٹھایا گیا تو ہر طرف دھوپ پھیلے ہونے کے باوجود ابر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ان کی چارپائی پر سایہ کیے ہوئے چل رہے تھے۔۔۔ (تذکرۃ الاولیاء)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

