تم بھی یہ دو کام کرو

تم بھی یہ دو کام کرو

اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ اس لئے بیان کیا ہے کہ سنو! جب بھی تمہیں ایسی صورتحال پیش آئے کہ جس میں تمہارے اندر گناہ کا داعیہ پیدا ہو رہا ہو۔۔۔ صراط مستقیم سے ہٹنے کا داعیہ پیدا ہو رہا ہے۔۔۔ اس وقت دو کام کرو۔۔۔ایک عزم تازہ کرو کہ میں صراط مستقیم کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ اور دوسرا جتنی تمہارے بس میں کوشش ہے۔۔۔وہ کر گزرو۔۔۔ اس کے بعد جب اللہ کو پکارو گے، تو اللہ تبارک وتعالیٰ تمہاری ضرور مدد کرے گا۔۔۔ تمہیں ضرور صراط مستقیم پر پہنچائے گا۔۔۔مولانا رومی رحمہ اللہ تعالیٰ مثنوی میں حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واقعہ کے بارے میں فرماتے ہیںکہ:۔
گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید
خیرہ یوسف دارمی باید دوید
کہ آج اگر تمہیں اپنے ماحول کے اندر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔۔۔ ماحول میں فسق و فجور کی آگ بھڑکی ہوئی ہے۔۔۔ کفر و شرک کا دور دورہ ہے اور چاروں طرف اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی تاریکیاں چھائی ہوئی ہیں۔۔۔ جس طرح حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام دروازوں تک بھاگے تھے۔۔۔تم بھی بھاگو۔۔۔۔ جتنا بھاگ سکتے ہو بھاگو۔۔۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کو پکارو ۔۔۔تو تمہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ان شاء اللہ نجات دے دیں گے۔ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کے دین پر عمل پیرا ہوں تو پہلے دل میں خواہش تو پیدا کرو۔۔۔ تڑپ پیدا کرو۔۔۔ عزم پیدا کرو اور دوسرے یہ کہ جتنی تھوڑی بہت کوشش ممکن ہے وہ کر گزرو تو پھر یہ دعا ضرور قبول ہوگی۔۔۔
لیکن آدمی اگر فرض کرو دل میں نیت بھی نہیں۔۔۔ ارادہ بھی نہیں۔۔۔ کوئی دلچسپی بھی نہیں اور کوئی خواہش بھی نہیں اور عمل میں کوئی کوشش بھی نہیں اور پھر مانگ رہے ہیں کہ صراط مستقیم دے دو۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چل تو رہا ہے الٹا اور مانگ رہا ہے۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے سیدھا ہونا۔۔۔اگر فرض کرو دل میں دین کی طرف چلنے کی نیت نہیں ہے۔۔۔ دل میں تو یہ آروز ہے کہ ہم انگریزوں جیسے ہو جائیں۔۔۔ مغربیت کے سانچے میں ڈھل جائیں اورسارا عمل بھی اسی جانب کیلئے کر رہے ہو۔۔۔پھر اگر تم اللہ تبارک وتعالیٰ سے کہو کہ یا اللہ!! تو مجھے صراط مستقیم دیدے تو یہ دعا نہ ہوئی مذاق ہوا، ہاں دل میں ایک مرتبہ پختہ نیت تو پیدا کرلو کہ میرے لئے دین ودنیا کی فلاح کا جوبھی راستہ۔۔۔ جو اللہ نے بتایا۔۔۔ جو اللہ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے بتایا میں اس کے اوپر چلنا چاہتا ہوں اور اس کی طرف قدم بھی بڑھاتا ہوں۔۔۔
ہاں مشکلات آرہی ہیں۔۔۔ ان میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے مانگتا ہوں کہ یا اللہ! مشکلات دور کردے، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان شاء اللہ توفیق ہوگی۔۔۔ اور مدد آئے گی۔۔۔ اور زندگی میں انقلاب پیدا ہوگا۔۔۔(اصلاحی خطبات جلد ۱۸)

Most Viewed Posts

Latest Posts

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عقیدہ و عمل کو اپنے عقیدہ و عمل کے ساتھ ضم کر کے انہیں معیار حق فرمایا اور اعلان فرمایا کہ ’’سنن نبوت اور سنن...

read more

اَسلاف کے مسلک پر استقامت

اَسلاف کے مسلک پر استقامت حضرت مولانا سرفراز خان صفدررحمہ اللہ نے حضرت سید نفیس الحسینی رحمہ اللہ کے انتقال پُرملال کے موقع پر جو کلمات ارشاد فرمائے وہ ہم سب کیلئے بالعموم اور سلسلہ نفیسیہ کے احباب کیلئے بالخصوص مینارۂ نور ہیں۔حضرت اقدس سید انور حسین شاہ نفیس رقم کی...

read more

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں اب میں حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مذاق فتویٰ کے بارے میں آپ ہی سے سنی ہوئی چند متفرق باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ محض فقہی کتابوں کی جزئیات یاد کرلینے سے انسان فقیہ...

read more