تدوین دین
قرآن پاک کی مکمل عملی تفسیر سنت تھی اس سنت کے کامل عملی نمونے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم تھے جو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی تیار ہوئے ان کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پوری دنیا میں پھیل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب ہدایت تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ستارے تھے ان کے ذریعہ دین دنیا میں پھیل گیا ان مقدسین کی مبارک زندگیاں جہاد میں گزر گئیں ان کو یہ فرصت نہ ملی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مدون و مرتب فرمادیتے لیکن یہ ایک اہم ضرورت تھی کہ جو دین قیامت تک کے لیے آیاہے اس کو آسان اور عام فہم ترتیب میں پوری تفصیل سے مدون کردیا جائے تاکہ قیامت تک کے مسلمان اپنے محبوب پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر آسانی سے عمل کریں چنانچہ یہ کام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ہی آخری دور میں شروع ہوگیا اور تدوین کاپہلا سہرا سیدنا امام اعظم نعمان بن ثابت ابو حنیفہ کوفی رحمہ اللہ کے سر بندھا اور اس کی پیشین گوئی بھی اشارتاً کتاب و سنت میں موجود تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔
’’ سنتے ہوتم لوگ تم کو بلاتے ہیں کہ خرچ کرو اللہ کی راہ میں پھر تم میں کوئی ایسا ہے کہ نہیں دیتا اور جو کوئی نہ دے گا سو نہ دے گا اپنے آپ کو اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اوراگر تم پھر جائو گے تو بدل لے گا اور لوگ تمہارے سوائے پھر وہ نہ ہوں گے تمہاری طرح کے۔ (محمد:۳۸)
علامہ عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ یعنی اللہ تعالیٰ جس حکمت اور مصلحت سے بندوں کو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس کاحاصل ہونا کچھ تم پر منحصر نہیں فرض کیجئے تم اگر بخل کرو اور اس کے حکم سے روگردانی کروگے وہ تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم کھڑی کردے گا جو تمہاری طرح بخیل نہ ہوگی بلکہ نہایت فراخ دلی سے اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی راہ میں خرچ کرے گی بہر کیف اللہ کی حکمت و مصلحت تو پوری ہوکر رہے گی ہاں تم اس سعادت سے محروم ہوجائوگے حدیث میں ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ دوسری قوم کون ہے جس کی طرف اشارہ ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اس کی قوم اور فرمایا خدا کی قسم اگر ایمان ثریا پر جاپہنچے تو فارس کے لوگ وہاں سے بھی اس کو اتار لائیں گے۔
الحمدللہ !صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس بے نظیر ایثار اور جوش ایمانی کا ثبوت دیا کہ ان کی جگہ دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی ۔ تاہم فارس والوں نے اسلام میں داخل ہوکر علم اور ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور ایسی زبردست دینی خدمات انجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص کو ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے موافق یہی قوم تھی جو بوقت ضرورت عرب کی جگہ پر کرسکتی تھی ہزار ہا علماء وائمہ سے قطع نظر کرکے تنہا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا وجود ہی اس پیشین گوئی کے صدق پر کافی شہادت ہے بلکہ اس بشارت عظمی کے کامل اور اولین مصداق امام صاحب ہی ہیں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ امیین (اہل عرب) کے ذکر کے بعد ارشاد فرماتے ہیں اور اٹھایا اس رسول کو (عرب کے علاوہ) ایک دوسرے لوگوں کے واسطے بھی جو ابھی نہیں ملے ان میں اور وہی ہے بڑا زبردست حکمت والا، یہ بڑائی اللہ کی ہے، دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے ‘‘ ۔(الجمعہ ۳،۴)
علامہ عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں حق تعالیٰ نے پہلے عرب پیدا کئے، اس دین کے تھامنے والے پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی نسبت سوال کیا گیا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اگر علم یا دین ثریا پر جاپہنچے گا تو اس کی قوم فارس کا مرد وہاں سے بھی لے آئے گا۔ شیخ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ وغیرہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس پیشین گوئی کے بڑے مصداق حضرت امام اعظم ابو حنیفہ النعمان رحمہ اللہ ہیں (تفسیر عثمانی حاشیہ ۔۷)
چنانچہ اس پیشین گوئی کے مطابق سیدنا امام اعظم رحمہ اللہ نے دین کی تدوین فرمائی چونکہ قرآن پاک میں اسلام کا دوسرا نام دین حنیف ہے جس کی تکمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ، تمکین صحابہ کرام کے ذریعہ ہوئی اور تدوین میں اولیت کا شرف امام صاحب رحمہ اللہ کو نصیب ہوا اس لیے پوری امت میں بالاتفاق آپ کی وصفی کنیت ابو حنیفہ قرار پائی یعنی دین حنیف کے پہلے مدون آپ کا اسم گرامی نعمان ہے ، ابن حجر مکی رحمہ اللہ نے نعمان کے تین معنی لکھے ہیں
۔۔۔ نعمان نعمت سے اسم مبالغہ ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تکمیل دین کو اتمام نعمت فرمایا تو سب سے بڑی نعمت کی تدوین جس سے ہوئی وہ واقعی اسم بامسمی نعمان ہیں۔
۔۔۔ نعمان ایک گھاس ہوتی ہے جس کی خوشبو دور دور تک پھیلتی ہے امام عالی مقام کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر سنت کی خوشبو پوری دنیا میں پھیلی۔ کسی اور امام کا مذہب اس کا عشر عشیر بھی نہیں پھیلا، اسلئے بھی آپ اسم بامسمی نعمان ہیں ۔
۔۔۔ نعمان اس خون کو کہتے ہیں جس پر زندگی کا مدار ہے جو جسم کے ایک ایک بال تک پہنچتا ہے آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت کی ایسی تفصیل فرمائی کہ انسان کی پیدائش سے موت تک زندگی کے ہر چھوٹے بڑے مسئلہ کا حل سنت سے تلاش کرلیا۔ اس معنی میں بھی آپ نعمان ہیں۔ نیز آپ کی فقہ بعد والوں کے لیے قوام کا کام دیتی ہے امام مالک رحمہ اللہ ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ سب نے استفادہ کیا اس معنی میں بھی آپ اسم بامسمی نعمان ہیں۔ آپ کا لقب امام اعظم ہے کیونکہ رسول اقدس نے فرمایا اعظم الناس نصیبا فی الاسلام اھل فارس لوکان الاسلام فی الثریا لتناولہ رجال من اھل فارس۔
(تاریخ ابو نعیم بحوالہ مقدمہ کتاب التعلیم ص ۹۷)
اسلام میں بڑا حصہ اہل فارس کا ہے اگر دین ثریا ستارے میں بھی ہوگا تو اہل فارس اسے لے آئیں گے ظاہر ہے کہ جن کا اسلام میںنصیب اعظم ہے ان کا امام بھی اعظم ہے ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بعد سب نے آپ کو اعظم مانا اور دنیا میں ’’ سواد اعظم‘‘ آج تک آپ کے مقلدین کا ہے۔
الغرض رسول پاک آفتاب ہدایت صحابہ نجوم ہدایت اور ثریا ستارے تک پہنچنے والے امام اعظم۔ اہل سنت میں ہماری نسبت آفتاب ہدایت کے ساتھ جڑی والجماعت میں نجوم ہدایت کے ساتھ اور حنفی میں ستاروں تک پہنچنے والے ثریا جاہ امام کے ساتھ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دین کے لانے والے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم دین کے پھیلانے والے، ائمہ اربعہ رحمھم اللہ دین کے لکھوانے والے۔ صحابہ نے یقیناً وہی دین پھیلایا جو نبی والا تھا اور ائمہ رحمھم اللہ نے وہی دین لکھوایا جو صحابہ والا تھا ہمارا یہ نام اہل سنت والجماعت حنفی ہمارے مذہب کی متصل سند ہے جو مشاہد اور متواتر تعامل پر مبنی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو صحابہ نے مشاہدہ سے لیا اور اس پر تواتر عمل جاری ہوا اور امام صاحب رحمہ اللہ نے صحابہ کا مشاہدہ فرمایا ان کے متواتر عمل کو کتابوں میں مدون کروایا اور عملاً پوری دنیا میں اس کو متواتر کردیا، ہر جگہ سنت پر عمل جاری ہوگیا جس طرح ہمارا یہ نام رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل سند ہے اسی طرح اس نام میں جامعیت بھی ہے ۔ اہل سنت و الجماعت بالترتیب چار دلائل شرعیہ کو مانتے ہیں کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع امت اور قیاس… (ازخطبات صفدر)
