اختلافات سے گریز کریں

اختلافات سے گریز کریں

مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔
مسلمانوں کی پچھلی تاریخ میں ہمارے سامنے بڑی عبرت ناک مثالیں ہیں، جن ملکوں میں اسلام کا زوال ہوا، وہاں دشمن اسلام طاقتیں غالب آئیں آپ اگر تحقیق کریں گے تو ان میں کچھ ایسی چیزیں پائیں گے جن سے اس دور میں سبق لیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ ان میں ایک چیز تھی علماء کا شدید اختلاف اور دوسری چیز یہ تھی کہ علماء کا عوام سے رابطہ نہیں تھا، ان کی شخصیتیں اتنی مؤثر نہیں رہ گئی تھیں کہ عوام کے قلوب میں دین کا احترام اور علماء کا وقار قائم رکھتیں۔۔۔۔ وہ ملک جس نے خواجہ بہاء الدین نقشبندی کو پیدا کیا، جس نے خواجہ عبیداللہ احرار کو پیدا کیا۔۔۔۔ وہ ملک طاقت و روحانی شخصیتوں سے خالی ہو گیا تھا، معیار زندگی بہت بلند ہو گیا تھا، مادیت اپنے عروج پر تھی۔۔۔۔ ابھی تک امیر بخارا کا محل باقی ہے اور کمیونسٹ حکومت اسے دکھاتی ہے کہ دیکھئے کس طرح دولت جمع کی گئی تھی، کس طرح سونے چاندی کے ظروف تھے، بقول ان کے عوام بھوکے مر رہے تھے اور امیر بخارا کے محل میں یہ چیزیں تھیں۔۔۔۔
اسی طریقہ سے آپ اندلس کی تاریخ میں مدینۃ الزہراء اور قلعۃ الحمراء کی تفصیلات پڑھیں۔۔۔۔ خواب و خیال اور جن و پری کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔۔۔۔ وہاں دو بڑے عنصر اسلام کے زوال کا باعث ہوئے ہیں۔۔۔۔ ایک معیار زندگی کی بلندی اور اللہ کی دی ہوئی دولت کا غلط استعمال اور دوسرے یہ کہ اشاعت اسلام اور معاشرے کو اسلامی بنانے کے بجائے انہوں نے فنون لطیفہ، شعر و شاعری اور ادبیات وغیرہ پر ساری توجہ مرکوز کر دی تھی۔۔۔۔
تیسری بات یہ ہے کہ حاکم خاندان میں حکومت کے لیے رسہ کشی شروع ہو گئی، سیاسی پارٹیوں کا وہ عہد نہیں ہے، اب اس کی جگہ سیاسی پارٹیوں نے لے لی ہے، یہ تین عنصر تھے، اندلس کے زوال کے۔۔۔۔ (اس پر اضافہ کیجیے اخلاقی زوال کا) آپ اگر ’’صبحِ سمرقند‘‘ کتاب پڑھیں تو آپ کومعلوم ہو گا کہ وہاں کیا اخلاقی زوال اور انحطاط پیدا ہو گیا تھا۔۔۔۔
موجودہ خطروں اور اندیشوں میں اس کی کیا گنجائش ہے کہ علماء اس طرح دست و گریباں ہوں، یہ بات میں اپنے عقائد کے پورے تحفظ کے ساتھ کہتا ہوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ایک شوشہ سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں، نہ عبادت کے مسائل میں، نہ اپنے عقائد کے اصول میں، کسی چیز میں کسی مفاہمت کے لیے میں تیار نہیں۔
ایک تو اپنا عمل ہے اور ایک یہ کہ اکھاڑا بنا دیا جائے، عوام کو آلہ کار بنایا جائے اور سارے ملک کو میدان جنگ میں بدل دیا جائے، ایک کانفرنس ہو رہی ہے ’’یارسول اﷲ‘‘ کی اور ایک کانفرنس ہو رہی ہے محمد رسول اللہ کی یہ جینے کی باتیں نہیں، اس موقع پر اقبال کا شعر مجھے یاد آ رہا ہے۔۔۔۔
کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے
فقیہ و صوفی شاعر کی ناخوش اندیشی
(خطبات علی میاں:۱/۷۸ تا ۸۲)

Most Viewed Posts

Latest Posts

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عقیدہ و عمل کو اپنے عقیدہ و عمل کے ساتھ ضم کر کے انہیں معیار حق فرمایا اور اعلان فرمایا کہ ’’سنن نبوت اور سنن...

read more

اَسلاف کے مسلک پر استقامت

اَسلاف کے مسلک پر استقامت حضرت مولانا سرفراز خان صفدررحمہ اللہ نے حضرت سید نفیس الحسینی رحمہ اللہ کے انتقال پُرملال کے موقع پر جو کلمات ارشاد فرمائے وہ ہم سب کیلئے بالعموم اور سلسلہ نفیسیہ کے احباب کیلئے بالخصوص مینارۂ نور ہیں۔حضرت اقدس سید انور حسین شاہ نفیس رقم کی...

read more

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں

فتویٰ کے معاملے میں خصوصی مذاق کی چند باتیں اب میں حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مذاق فتویٰ کے بارے میں آپ ہی سے سنی ہوئی چند متفرق باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ محض فقہی کتابوں کی جزئیات یاد کرلینے سے انسان فقیہ...

read more