بجائے جہیز کے زمین، جائیداد یا تجارت کے لیے نقد رقم دینا
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ میں نے ایک تعلق دار کی حکایت سنی ہے جو بہت بڑے مالدار ہیں کہ انہوں نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا اور جہیز میں صرف ایک پالکی دی اور ایک قالین اور ایک قرآن مجید۔ اس کے سوا کچھ نہ دیا، نہ برتن، نہ کپڑے بلکہ اس کے بجائے ایک لاکھ روپیہ کی جائیداد بیٹی کے نام کردی اور کہا کہ میری نیت اس شادی میں ایک لاکھ روپیہ خرچ کرنے کی تھی اور یہ رقم اس واسطے پہلے تجویز کر لی تھی۔ خیال تھا کہ خوب دھوم دھام سے شادی کروں گا، مگر پھر میں نے سوچا کہ اس دھوم دھام سے میری بیٹی کو کیا نفع ہوگا، بس لوگ کھا پی کر چل دیں گے، میرا روپیہ برباد ہوگا اور میری بیٹی کو کچھ حاصل نہ ہوگا، اس لیے میں نے ایسی صورت اختیار کی جس سے بیٹی کو نفع پہنچے اور جائیداد سے بہتر اس کے لیے کوئی نفع کی چیز نہیں۔ اس سے وہ اور اس کی اولاد پشتہا پشت تک بےفکری سے عیش کرتے رہیں گے، اور اب کوئی مجھے بخیل اور کنجوس بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں نے دھوم دھام نہیں کی تو رقم اپنے گھر میں بھی نہیں رکھی۔ دیکھو یہ ہوتا ہے عقلاء کا طرز۔ اگر خدا کسی کو دے تو بیٹی کو جہیز میں بہت دینا برا نہیں مگر طریقہ سے ہونا چاہیے جو لڑکی کے کچھ کام بھی آئے۔ مگر عورتوں کو کچھ نہیں سوجھتا، یہ تو ایسی بے ہودہ ترکیبوں سے برباد کرتی ہیں جس سے نہ ان کو کچھ وصول ہوتا ہے نہ لڑکی کو۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

