جہیز میں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ جہیز میں ان امور کا خیال رکھنا چاہیے:۔
۔(۱) اول اختصار یعنی گنجائش سے زیادہ کوشش نہ کرے۔
۔(۲) دوم ضرورت کا لحاظ کرے یعنی جن چیزوں کی سردست ضرورت واقع ہو وہ دینا چاہیے۔
۔(۳) سوم اعلان نہ ہو کیونکہ یہ تو اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے، دوسروں کو دکھلانے کی کیا ضرورت ہے۔ حضور ﷺ کے فعل سے جو اس روایت میں مذکور ہیں، تینوں امر ثابت ہیں۔ سیدۃ النساء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز یہ تھا: دو یمنی چادر، دو نہالی (بستر) جس میں السی کی چھال بھری تھی ، اور چار گدے، چاندی کے دو بازوبند اور ایک کملی اور تکیہ اور ایک پیالہ اور ایک چکی اور ایک مشکیزہ اور پانی رکھنے کا برتن یعنی گھڑا اور بعض روایتوں میں ایک پلنگ بھی آیا ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

