مہر مانع زکوٰۃ نہیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ دَین مہر کو مانع وجوبِ زکوۃ (یعنی زکوۃ کے وجوب کو روکنے والا) سمجھتے ہیں یعنی جس شخص کے ذمہ مہر واجب ہو وہ یوں سمجھتا ہے کہ چونکہ میں اتنے کا قرضدار ہوں اس لیے مجھ پر اتنے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ مانع زکوۃ نہیں چنانچہ شامی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ *”و الصحيح انه غير مانع”* ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مہر نہ مانع زکوٰۃ ہے یعنی اس قرض کے ہوتے ہوئے بھی شوہر پر زکوۃ واجب رہتی ہے (اگر نصابِ زکوۃ موجود ہو) اور مہر نہ موجبِ زکوۃ ہے (یعنی عورت پر بھی اس کی زکوٰۃ واجب نہیں) جب تک کہ وصول نہ ہوجائے اور وصول ہونے کے بعد بھی گذشتہ زمانہ کی زکوة واجب نہ ہوگی، تازہ زکوٰۃ واجب ہوگی۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

