اصلاح کا طریقہ اور خیرخواہی کا تقاضا
*ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علی
ارشاد فرمایا کہ آپ کا کوئی بیٹا نالائق ہو اور برے افعال میں مبتلا ہو، آپ کو تنگ کرتا ہو، اس کے عیب آپ کی زبان پر ہر جگہ نہ آئیں گے۔ اس کے عیب زبان پر آنے سے آپ کا دل دکھے گا اور حتیٰ الامکان یہ چاہیں گے کہ یہ عیب کسی پر ظاہر نہ ہوں اور اس کو مناسب طریقہ سے تنہائی میں آپ سمجھائیں گے کہ یہ حرکتیں چھوڑ دو۔ یہ کبھی نہ ہوگا کہ آپ ان عیبوں کو جگہ جگہ گاتے پھریں۔ اصلاح اس کو کہتے ہیں ۔ اگر آپ کو اس شخص کی اصلاح کرنی ہے جس کی غیبت میں آپ مبتلا ہیں تو دوسروں کے سامنے اس کے عیب ظاہر کرنے سے کیا فائدہ۔ اس کو تنہائی میں سمجھائیں اور اسی طرح سمجھائیے جیسے اپنے بیٹے کو سمجھاتے ہیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جو اثر آپ کے دس جگہ ان عیبوں کے مجمع میں ذکر کرنے سے ہوتا ہے اس سے زیادہ ایک جگہ علیحدگی میں سمجھانے سے ہوگا۔ اور اگر اس کی ہمت نہیں ہوتی کہ اس کو تنہائی میں سمجھائیں بلکہ مجمعوں میں اس کے عیب ظاہر کرنے میں لطف آتا ہے تو سمجھ لو کہ یہ وہی شیطان کا دھوکہ ہے جو زہر آلود مٹھائی کا کام دے گا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

