صفتِ مغفرت کا غلط اعتقاد
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
فرمایا کہ ایک مانع توبہ سے یہ ہے کہ بندہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ غفور رحیم ہے، اس کو ہمارے گناہ بخش دینے کیا مشکل ہیں۔ لیکن صاحبو یہ جواب ظاہری بیماریوں میں کیوں نہیں دیا جاتا اور امراضِ سمی (زہر کی بیماریوں میں) میں اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔ کیا کوئی شخص بتلا سکتا ہے کہ اس نے اس خیال سے کہ خدا تعالیٰ غفور رحیم ہے، وہ ہم کو ضرور تندرست کردے گا، امراضِ جسمانی کا علاج نہ کیا ہو یا کوئی شخص بتلا سکتا ہے کہ اس نے خدا کی رحمت پر بھروسہ کرکے زہر کھا لیا ہو۔ کبھی نہیں بلکہ اگر کوئی دوسرا یوں کہے کہ میاں خدا کی رحمت پر بھروسہ کر کے زہر کھا جاؤ تو اس کو دیوانہ بتلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ خدا کے غفور رحیم ہونے کے یہ معنی نہیں کہ سنکھیا کھاؤ تو ضرر نہ ہو بلکہ سنکھیا ضرر بھی کرے گا اور خدا غفور رحیم بھی رہے گا۔ اسی طرح گناہ کا ضرر ہوتا ہے لیکن اس سے خدا تعالیٰ کے غفور رحیم ہونے میں کوئی نقص نہیں آتا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

