آج کل اکثر سجادہ نشینوں کو احکامِ دین کی خبر نہیں
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ آج کل بزرگوں کے مزارات اور ان کے تبرکات کے بارے میں نہایت ہی بداحتیاطی سے کام لیا جاتا ہے ۔ جائز ناجائز حلال حرام کی قطعاً پرواہ نہیں کی جاتی اور یہ ان لوگوں کے افعال ہیں جو سجادہ نشین ہیں اور اپنے کو شیخ المشائخ کہلاتے ہیں مگر دین اور احکامِ دین کی مطلق نہ خبر ہے اور نہ پرواہ ہے ، پھر خدا معلوم بزرگی اور ولایت کس چیز کا نام رکھ چھوڑا ہے ۔ چنانچہ ان سجادہ نشینوں کے پاس جس قدر یہ تبرکات ہیں جن پر انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے ظاہر ہے کہ قاعدہ ٔ فقہیہ سے واقف تو ہیں نہیں ۔ یہ ابتداء میں کسی کی مِلک خاص تھے ، پھر اس میں مناسخہ (یعنی وراثت در وراثت)جاری ہوکر بہت سے لوگ اس میں شریک ہوگئے تو ان سب کی مِلک ہوئے ۔ پھر نہ سب کی رضا ، نہ ہر رضا معتبر مگر باوجود اس کے خلافِ شرع ان سجادہ نشینوں نے ان کو بدوں کسی حق کے محبوس کر رکھا ہے۔ ان کو تو یہ گناہ ہوا اور جو لوگ ان کی زیارت کرتے ہیں یہ اس گناہ کے معین ہیں کیونکہ اگر کوئی بھی زیارت نہ کرے تو پھر یہ سلسلہ ہی بند ہوجائے ۔ غرض اس جماعت میں حقوق العباد کا مطلق خیال نہیں کیا جاتا، خدا معلوم خدا تعالیٰ کا خوف دل سے نکل ہی گیا ۔ یہ ہیں آج کل کے سجادہ نشین اور شیخ المشائخ کہ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۵۱)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں
