بزرگوں کے پاس رہنے ہی میں سلامتی ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ آج ایک خط آیا ہے۔ لکھا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ محض اللہ کی رضا کے واسطے چالیس روزے رکھو ں اور ایسی جگہ رہوں جہاں کوئی نہ آوے۔ اس کا یہ جواب دیا گیا کہ دو چیزیں اس کی مانع ہیں : ایک مشقت ناقابلِ تحمل دوسرے شہرت، اس کو دیکھ لیا جائے۔پھر فرمایا کہ اس کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ نہ معلوم لوگ مخلوق سے نفرت کیوں کرتے ہیں ؟ کیا کوئی کھائے لیتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بزرگ مشہور ہوجائیں گے کہ چلہ کھینچ رہے ہیں اور یہ بڑا فتنہ ہے۔ ایک دفعہ فلاں مولوی صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ جی چاہتا ہے کہ گم نام جگہ میں رہوں جہاں کوئی نہ پہچانتا ہو ۔ میں نے کہا کہ اس کی ضرورت ہی کیا ہے ، اپنے بڑوں کے پاس رہنے میں بھی کون پہچانتا ہے ، اگر الگ رہوگے تو بزرگ مشہور ہوجاؤ گے جو بڑا فتنہ ہے۔ خیر اسی میں ہے کہ اپنے بزرگوں کے پاس پڑے رہو۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۵۲)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

