تین باتوں پر حضور ﷺ نے اتنی سخت بددعا کیوں فرمائی
ارشاد فرمایا کہ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ ایسے ہی شخص پر بددعا کر سکتے ہیں جس کا جرم بہت سنگین ہو۔ ظاہر میں حضور ﷺ کا نام سن کر درودپاک نہ پڑھنا، اور رمضان کی رعایت نہ کرنا اور والدین کی خدمت نہ کرنا زنا، سود اور چوری کی طرح تو سنگین گناہ نہیں معلوم ہوتے مگر ان پر ( یعنی سود، زنا، چوری وغیرہ گناہوں پر ) بھی ایسی بددعا وارد نہیں ہوئی۔ غور کرنے سے اس کی وجہ صرف یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ان تینوں شخصوں کا جرم بہت سنگین ہے ، اس لئے کہ انہوں نے نہایت سہل اور آسان کام میں کوتاہی کی ہے تو جو شخص اتنے آسان کاموں میں بھی سستی کرتا ہے اس پر حضور ﷺ کو زیادہ غصہ آتا ہے اور عرف و عادت بھی یہی ہے کہ سہل و آسان کام کے نہ کرنے پر زیادہ غصہ آیا کرتا ہے۔ (احکام رمضان المبارک ،صفحہ ۳۳)۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہزاروں قیمتی ملفوظات نایاب موتی ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر موجود ہیں ۔ خود بھی پڑھئے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیجئے ۔ یہ اآپکے لئے صدقہ جاریہ ہوگا ۔

