صدقۂ فطر سے متعلق لوگوں کی کوتاہیاں
ارشاد فرمایا کہ بہت سے لوگوں کو یہ بھی خبر نہیں کہ خدا تعالیٰ نے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اس کو واجب کیا ہے اور بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ ان ہی لوگوں کی طرف سے دیا جاتا ہے جنہوں نے روزے رکھے ہیں سو وہ بچوں کی طرف سے ادا نہیں کرتے۔ اور بہت سے لوگ خصوصاََ دیہات والے صدقۂ فطر جمع کر کے مسجد کے مؤذن یا امام کو دے دیتے ہیں اور یہ نہیں کہ ان کی اجرت کے علاوہ ان کو علیحدہ سے مسکین سمجھ کر دیتے ہوں بلکہ ان لوگوں کو ایسے شرائط مقرر کرکے دیتے ہیں کہ تم یہ کام کرو تو تم کو یہ ملے گا۔ اس میں صدقۂ فطر بھی شمار کیا جاتا ہے تو اس طور پر وہ ان کے عمل کا عوض ہواجو کہ اجرت ہے اور اجرت دینے سے صدقۂ فطر ادا نہیں ہوتا ۔ اس لئے ان دینے والوں کے ذمہ دوبارہ ادا کرنا ضروری ہوگا۔ البتہ اگر مقرر کرتے وقت تصریح کردیں کہ صدقۂ فطر سے تمہارا کچھ واسطہ نہ ہوگا اور پھر محتاج سمجھ کر دے دیں وہ جائز ہے بشرطیکہ واقعی محتاج ہو ورنہ اگر وہ مالدار( صاحب ِ نصاب)ہو تو صدقۂ فطر ادا نہ ہوگا ، پھر سے دینا پڑے گا۔ (احکام عیدین، صفحہ ۱۹)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہزاروں قیمتی ملفوظات نایاب موتی ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر موجود ہیں ۔ خود بھی پڑھئے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیجئے ۔ یہ اآپکے لئے صدقہ جاریہ ہوگا ۔

