شب ِ قدر کی بعض علامات
ارشاد فرمایا کہ شب ِ قدر میں حق تعالیٰ کی تجلی ہوتی ہے اور گو ہمیں ان تجلیات کا دکھائی دینا(اور محسوس ہونا) ضروری نہیں مگر اس کی پہچان اس سے ہوتی ہے کہ اس رات میں اور دوسری راتوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ اس رات میں دوسری راتوں کی بہ نسبت عبادت میں زیادہ جی لگتا ہے ، قلب کو غفلت نہیں ہوتی۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ یہ مشہور ہے کہ اس شب میں یعنی لیلۃ القدر میں سب چیزیں سجدہ میں ہوتی ہیں ، کیا یہ سچ ہے؟فرمایا کہ کبھی ایسی حالت کسی کو مکشوف ہوجانا بعید نہیں، چنانچہ ایک مرتبہ ہماری پھوپھی صاحبہ نے ایک بار درودیوار کو گرا ہوا دیکھ کر شوروغل مچایا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ شب ِ قدر مکشوف ہوئی تھی ، یا روشنی کا پھیلنا یہ بھی کبھی ہوجاتا ہے مگر ضروری نہیں جیسا کہ مشہور ہے۔ البتہ یہ بات دائمی ہے کہ اس شب میں قلب کے اندر ایک سرور اور عبادت میں دل لگنا پایا جاتا ہے ۔ اس حالت میں کہ جب چیزوں کا گرا ہوا ہونا یا انوار کا پھیلنا مشاہد ہو ( یعنی کسی کو نظر آئے ) تو اس کا یہ مطلب نہیں اس رات کو جس میں یہ ہوا دوسری راتوں پر جس میں یہ نہ ہو کچھ فضیلت ہو۔ ہاں البتہ اس حال میں دل لگنے کی حالت زیادہ ہوگی اور قلبی توجہ میں اضافہ ضرور ہوگا۔ ( احکامِ اعتکاف ، صفحہ ۵۱)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہزاروں قیمتی ملفوظات نایاب موتی ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر موجود ہیں ۔ خود بھی پڑھئے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیجئے ۔ یہ اآپکے لئے صدقہ جاریہ ہوگا ۔

