ایک منکر حدیث کی اصلاح

ایک منکر حدیث کی اصلاح

ایک منکر حدیث کی اصلاح
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میں ایک دفعہ سفر میں ایک اپ ٹو ڈیٹ قسم کے آدمی سے ملا ۔۔۔۔ اس قدر نیاز مندی سے پیش آئے اور اتنی خدمت کی کہ میرے دل میں قدر ہوئی وہ تھے اصل میں منکرِ حدیث ۔۔۔۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مجھے انکارِ حدیث (کی بحث و تمحیص) کے اوپر لائیں ۔۔۔۔ اس لئے خدمت کو انہوں نے پیش خیمہ بنایا اخیر میں انہوں نے اپنا مقصد ظاہر کیا احادیث پر کچھ اعتراضات کرنے شروع کئے کہ وہ قابل اعتبار نہیں ۔۔۔۔ ایک تاریخ کا درجہ رکھتی ہیں ۔۔۔۔
۔’’میں نے کہا ۔۔۔۔ آپ کسی چیز کو مانتے بھی ہیں؟
کہنے لگے قرآن… میں نے کہا: قرآن کا قرآن ہونا آپ کو کیسے معلوم ہوا؟
کیا آپ پر وحی آ گئی تھی کہ یہ قرآن ہے ۔۔۔۔ کیسے پتہ چلا؟
کہنے لگے اللہ کے رسول کے ارشادات سے… میں نے کہا ۔۔۔۔ وہ ارشاد ہی تو حدیث ہے ۔۔۔۔ تو قرآن کا قرآن ہونا تو حدیث پر موقوف ہے ۔۔۔۔ حدیث کا آپ انکار کر دیں گے تو کون سی شرط ہے قرآن کے قرآن ہونے کی؟
کیسے آپ انکار کرتے ہیں؟ تو وہ چپ ہو گئے ۔۔۔۔ کہنے لگے کہ دل سے تو حدیث کا انکار واقعی مشکل ہے ۔۔۔۔ باقی حدیثیں ایسی بھی ہیں کہ بعض قابل اعتبار نہیں… تو میں نے کہا کہ جنس کو تو آپ نے مان لیا آپ مصر کیوں ہیں کہ حدیث کی قسمیں ہیں… میں نے کہا جہاں تک حدیث کی قسمیں ہیں محدثین نے خود ان کی صراحت کی ہے… کہ ہر حدیث کا ایک درجہ نہیں ہے ۔۔۔۔
جو حدیث متواتر ہے اور تواتر سے ثابت ہے وہ مورث یقین ہے اس کا انکار ایسا ہی ہے جیسے قرآن کا انکار ۔۔۔۔ قرآن کی ایک آیت کا آدمی انکار کر دے تو اسلام سے خارج ہو جاتا ہے حدیث متواتر کے انکار سے بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا ۔۔۔۔
دوسرے درجہ کی حدیث ۔۔۔۔ حدیث مشہورہ ہے وہ اگر مورثِ یقین نہیں تو ظن غالب کی مورث تو ہے ہی ۔۔۔۔ ظن غالب تو پیدا ہو گا اور ظن غالب پر ہزاروں احکام کا مدار ہے تو وہ بھی حجت ہو گی ۔۔۔۔
تیسرا درجہ خبر واحد کا ہے وہ اگر ظن غالب نہیں تو مطلق ظن تو پیدا کرتی ہے اور ظن سے انکار نہیں کیا جا سکتا… بہت سے احکام ظن اور گمان پر مبنی ہیں کہ آدمی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ جیسے وضو میں پیروں کا دھونا ضروری ہے اور ذرا بھی خشک رہ جائے وضو نہیں ہو گا لیکن آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ایڑی دھل گئی ہے یا نہیں؟
آپ دیکھ ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔ ظن غالب ہی تو ہوتا ہے کہ پیر دھل گیا ۔۔۔۔ اس ظن غالب پر شریعت بھی حکم دیتی ہے کہ ہاں دھل گیا ۔۔۔۔ وضو ہو گیا… تو بہت سے احکام کا مدار ظن پر بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔ تو حدیث اگر ظن ہی پیدا کر دے وہ بھی حجت کی شان رکھتی ہے آپ کا گمان جب فعل کے جائز ہونے پر حجت بن جاتا ہے تو حدیث اگر ظن ہی پیدا کرے تو وہ کیوں حجت نہیں بنے گی؟
تو میں نے کہا یہ تو خود محدثین نے تصریح کر دی ہے کہ ہر حدیث ایک درجے کی نہیں ہے تو جنس حدیث کو آپ نے مان لیا ۔۔۔۔ اقسام حدیث قابل اعتراض ہیں تو خود محدثین ہی تقسیم کرتے ہیں ۔۔۔۔ اب آپ کو اعتراض کیا ہے؟ کہنے لگے اب تو کچھ اعتراض نہیں ۔۔۔۔ میں نے کہا اب حدیث کا انکار نہیں کرو گے؟ کہنے لگے نہیں اب نہیں کروں گا ۔۔۔۔ تو لاہور آتے آتے ان کا خیال درست ہو گیا ۔۔۔۔ ‘‘ (از خطبات حکیم الاسلام)

Most Viewed Posts

Latest Posts

حضرت بنوری رحمہ اللہ کا علمی مقام

حضرت بنوری رحمہ اللہ کا علمی مقام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہم اللہ اور بھی دو چار علماء حضرات منبر ومحراب کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے ریاض (سعودی عرب)گئے تھے۔۔۔ ۔۔۔ وہاں بہت بڑا سٹیج بنا تھا اور سٹیج پر شاہ فیصل وہاں کے...

read more

حضرت شیخ علاء الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ کا ایک واقعہ

حضرت شیخ علاء الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ کا ایک واقعہ حضرت شیخ مولانا ناصر الدین خاکوانی دامت برکاتہم جو حضرت شیخ علاء الدین صاحب رحمہ اللہ کی طرف سے مجاز بیعت ہیں،جب حضرت مولانا مفتی عبد الستار صاحب رحمہ اللہ کا انتقال ہوا توآپ تعزیت کے سلسلہ میں جامعہ خیر المدارس...

read more

اہل حق کا انداز نصیحت

اہل حق کا انداز نصیحت اُستاذ العلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک بار ملتان کو دریائی سیلاب کا خطرہ ہوا۔۔۔ سجادہ نشین دربار خواجہ بہاء الحق ملتانی رحمہ اللہ نے دوستانہ تعلقات کی بناء پر مجھے اطلاع کئے بغیر شہر میں اعلان کرادیا کہ کل کو قلعہ پر...

read more