امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کا مؤطا پر لازمی عمل کرانے کی مخالفت کرنا
ائمہ میں امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ اہل مدینہ کی روایت کردہ احادیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ ثقہ اور صحیح اسناد سمجھے جاتے تھے۔۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلوں اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا و فقہاء سبعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال کے سب سے بڑے عالم بھی تھے۔۔۔۔ آپ کے ذریعہ اور آپ ہی جیسے دوسرے ائمہ سے علم روایت و فتویٰ کی بنیاد مضبوط ہوئی۔۔۔۔ آپ نے حدیث و افتاء کی بیش بہا خدمت کی اور موطا جیسی گرانقدر کتاب تالیف فرمائی۔۔۔۔ جس میں اہل حجاز کی قوی احادیث اور مستند اقوال صحابہ و فتاویٰ تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ جمع کر دئیے اور اس کے بہترین فقہی ابواب قائم فرمائے۔۔۔۔ یہ مؤطا آپ کی چالیس سالہ جانفشانیوں کا ثمرہ ہے۔۔۔۔
ستر (۷۰) معاصر علماء حجاز نے بھی اس کی تائید و موافقت فرمائی۔۔۔
اس سب کے باوجود منصور نے جب اس کے چند نسخے کرا کے دوسرے شہروں اور ملکوں میں بھیجنے کا ارادہ کیا، تاکہ لوگ اس فقہ پر عمل کریں اور پیدا شدہ اختلافات ختم ہو جائیں تو سب سے پہلے آپ نے اس خیال کی مخالفت فرمائی اور فرمایا:۔
امیر المؤمنین آپ ایسا نہ کریں لوگوں تک بہت سی باتیں اور احادیث و روایات پہنچ چکی ہیں اور ہر جگہ کے لوگ ان میں سے کچھ اپنا چکے ہیں جس سے خود ہی اختلاف رونما ہو چکا ہے اور اب اس اقدام سے مزید اختلافات پید اہو جائیں گے۔۔۔۔ اس لئے انہوں نے اپنے لئے جو اختیار کر لیا ہے اس پر انہیں آپ چھوڑ دیں۔۔۔۔ خلیفہ منصور نے یہ سن کر کہا:۔
’’ابو عبداللہ آپ کو اللہ اور توفیق بخشے۔۔۔۔‘‘
(اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب بحوالہ حجۃ اللہ البالغہ صفحہ ۳۳۵)
یہ امام کتنا جلیل القدر ہے جو بغیر رضامندی کے اس کتاب پر دعوت عمل کا اقدام بھی نہیں کرنے دیتا جس میں اس نے اپنی سنی ہوئی سب سے اچھی احادیث اور اپنا محفوظ و قوی علم و دیعت کر دیا تھا جس پر اہل مدینہ اور بہت سے معاصر علماء کا بھی اتفاق تھا۔۔۔۔ (حوالا بالا)
