امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی امام مالک رحمہ اللہ سے پہلی ملاقات
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس شہر کے رہنے والے تھے جس کے بارے میں مشہور تھا ’’الکوفی لا یؤفی‘‘ کوفی کبھی وفا نہیں کرتا) ۔۔۔۔ ایک دفعہ حضرت امام ابو حنیفہؒ مدینہ طیبہ گئے ۔۔۔۔ وہاں امام مالکؒ رہتے تھے ۔۔۔۔ انہوں نے تعارف پوچھا کہ کہاں سے آئے ہیں؟
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سنتے رہے کوفے سے آیا ہوں! حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کوفے کے لوگ تو منافق ہوتے ہیں ۔۔۔۔ کوفہ منافقوں کا گڑھ ہے ۔۔۔۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نہایت ادب سے کہنے لگے حالانکہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے عمر میں بڑے تھے لیکن اخلاق شریفہ کے ساتھ متصف تھے اور مدینے کے زائر تھے ۔۔۔۔ حاضری دینے والے تھے ۔۔۔۔ مدینے کے رہنے والے نہیں تھے ۔۔۔۔ اہل مدینہ کا ادب کرتے تھے ۔۔۔۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہنے لگے: حضرت! اجنبی آدمی ہوں ۔۔۔۔ ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔۔۔۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کہیے! فرمایا کہ ذرا اس آیت کا مطلب پوچھنا ہے کہ ۔۔
وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَط وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُھُمْ ط نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ط (التوبہ ۱۰۱)
۔’’تمہارے گرد و پیش میں بہت سے منافق رہتے ہیں اور مدینے میں بھی وہ لوگ موجود ہیں جو نفاق رکھے ہوئے ہیں آپ ان کو نہیں جانتے ہم جانتے ہیں ۔۔۔۔ ‘‘۔
یہ سن کر امام مالک رحمہ اللہ کا تو رنگ فق ہو گیا ۔۔۔۔ کہنے لگے آپ کا نام کیا ہے؟
آپ کی تعریف کیا ہے؟
حضرت امام ابو حنیفہ نے فرمایا میرا نامنعمان ہے اور مجھے ابو حنیفہ کہتے ہیں ۔۔۔۔
حضرت امام مالک کھڑے ہو گئے معانقہ کیا اور اس گستاخی کی معافی چاہی ۔۔۔۔ تو امام ابوحنیفہ بھی وہیں کے ہیں ۔۔۔۔ جیسا وہ مدینہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ۔۔۔۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں:۔
’’اہل مدینہ میں بعض لوگ ایسے ہیں جو نفاق میں پکے ہیں ۔۔۔۔ ‘‘
